1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

موجودہ سیاسی بحران کے محرکات، کردار اور اثرات

16 مارچ 2023

پاکستان ان دنوں بدترین سیاسی اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے، آٹھ مہینے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کے بعد بننے والی پی ٹی ایم کی حکومت اب تک اس بحران پر قابو نہ پاسکی ۔

https://p.dw.com/p/4Oljz
Wahlen in Pakistan I  Bilawal Bhutto Zardari
تصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

مریم نواز مسلم لیگ ن کی نائب صدر بننے کے بعد پنجاب میں اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ریلیاں اور جلسے منعقد کررہی ہیں۔ تحریک انصاف کا شکوہ ہے کہ دو صوبوں میں ضمنی  انتخابات کے اعلان کے بعد بھی انکی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جارہی اور دوسری جانب مریم نواز مسلسل پہلے احتساب پھر انتخابات کو سلوگن بنائے بیٹھی ہیں۔

آئین پاکستان ایک مزاق بن کر رہ گیا ہے

تجزیہ کاروں کے خیال میں حالیہ سیاسی بحران اور مخصوص سیاسی کلچر کو فروغ دینے میں عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یوں اب ریاست تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر مونس احمر نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے تمام فریقوں کو اس بحران کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے قانون کی حکمرانی کا مذاق اڑیا گیا ہے، سپریم کورٹ نے واضح احکامات دیے ہیں کہ نوے دن کے اندر کے پی کے اورپنجاب میں الیکشن کروائے جائیں لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی رٹ خاص کرعدلیہ کی رٹ پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ اب بجائے اس کے کہ ہم کسی ذمہ دار کا تعین کریں یہ ایک اجتماعی ناکامی ہے، یہ ریاست کی ناکامی ہے۔

سیاسی بحران کا ذمہ دار کون ہے؟َ

مونس احمر کہتے ہیں کہ ملک میں جاری موجودہ سیاسی  بحرانکے کرداروں میں سیاسی جماعتیں، عدلیہ ، فوج ،میڈیا اورپھر سول سوسائٹی کے گروپس شامل ہیں۔

کیا قانون کی حکمرانی کا تصور برقرار ہے؟

سیاسی تجزیہ نگار اور ماہر تعلیم ڈاکٹر ہمابقائی نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب پر پریشررکھنے کی ایک کوشش ہے اوربائی ڈیفالٹ یہ ہورہا ہے کہ سیاستدانوں پر کسی کو اعتبار یا بھروسہ نہیں رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی انجینئرنگ کی کوششیں مسائل کا حل نہیں ہیں۔ پاکستان ایک ' سرکستان' بنا ہوا ہے، جہاں عدلیہ، فوج، میڈیا سمیت کوئی محفوظ نہیں رہا ہے۔

ہما بقائی نے مزید کہا کہ قانون کی حکمرانی کا تصور ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ پہلے فوج اور اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی و سماجی محفلوں میں مزاق اڑایا گیا، کھلے عام تنقید ہوئی لوگوں نے تالیاں بجائیں اور افسوناک بات یہ رہی کہ عوام میں انکی پذیرائی ہوئی۔

موجودہ بحران کے کردار اور ان کے سیاسی ومعاشی مفادات کیا ہیں؟

سینیئر تجزیہ نگار مظہرعباس کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ بہت زیادہ متنازعہ ہوگئی ہے ایک ماضی ہے اورظاہر ہے سیاستدان تو ہیں ہی اس ذمہ دار کہ انہوں نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیزوں کی بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے اورصرف اپنے مفادات دیکھے لیکن انہیں بھی کمزوررکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تاریخی طور پریہ بات اسٹیبلشڈ ہے کہ جہاں نظریہ ضرورت آجاتا ہے وہاں عدلیہ اپنا اعتماد کھو بیٹھی ہے اور اسی لیے عدلیہ کو متنازعہ بنادیا جاتا ہے۔

مظہرعباس کہتے ہیں کہ اب کوئی ایسا نہیں بچا جس کے بارے میں خیال کیا جائے کہ یہ ہیں یہ بحران سے نکال لیں گے ۔ ہر ادارہ متنازعہ ہوگیا ہے جو کہ پاکستان کے پورے سسٹم اوراس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو ایک کمزورملک کے طور پردیکھا جارہا ہے۔

ملک کی سیاست میں عدلیہ کا کیا کردار ہے؟

سابق جج سندھ ہائیکورٹ جسٹس ریٹائرڈ نذر اکبر کہتے ہیں کہ عدلیہ کا کردار کسی صورت سے بہتر نہیں ہے۔ سیاست میں اس قدر آگے چلے گئے ہیں جس کی حد نہیں۔ سپریم کورٹ نے دوران سماعت کہا کہ 'ہمارے پاس یہ معاملہ کیوں لے کر آئے پارلیمنٹ میں اس کو حل کریں‘ اور پھر سپریم کورٹ نے فیصلہ بھی کردیا۔

اتحاد سے انضمام تک: پرویز الہی کی پی ٹی آئی میں شمولیت

ان کا کہنا تھا کہ نیب کیس میں بھی عدالت کا پہلے دن سے کہنا ہے کہ یہ قانون پارلیمنٹ میں بنا ہے وہاں آپ ڈیل کرتے وہاں سے باہرآگئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کام کورٹ میں کراسکتے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ نذر اکبر کہتے ہیں کہ سیاسی مقدمات کی بھی ایک بھرمار ہوگئی ہے۔ پہلے کیسز ٹاپ لیول پرہوتے تھے۔ حکومت کے آنے جانے کی بات ہوتی تھی، اب تو ہرقدم پر اس کی ووٹنگ کیسے ہوگی اس کی ووٹنگ کیسے ہوگی اسمبلی کو کون چلائے گا۔ پہلے مارشل لا لگ جانے یا اٹھاون ٹو بی کیخلاف کیس جاتا تھا عدالتوں میں اب پارلیمنٹ موجود ہوتی ہے اوراپوزیشن کورٹ میں کھڑی ہوتی ہے۔

نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟

انتخابات کے التوائی کی کوشش

تجزیہ نگار سکندر آفاق کے مطابق یوں لگ رہا ہے کہ اب اداروں کو کمزور کیا جارہا ہے۔ ہر سطح پر قومی اداروں کو ناصرف زیر بحث لایا جارہا ہے بلکہ ان پر اپنی اپنی رائے کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ کا آغاز پاکستان مسلم لیگ ن کی موجودہ نائب صدر مریم صفدر نے اپنے جلسے جلسوں سے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم کئی بار اب بھی اپنی تقریر میں اس بات پر فخر کا اظہار کرتی ہیں کہ انہوں نے یہ آزادی اور حق چھین کر حاصل کیا ہے۔

سکندر آفاق کہتے ہیں کہ اس وقت  عمران خانملک کے مقبول ترین لیڈر ہے، مریم انکی مقبولیت سے خوفزدہ ہے اسی لیے وہ فوری انتخابات کے حق میں نہیں ہیں۔

تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک میں یکساں نظام نظر نہیں آتا کہیں کسی کو بہت ہی زیادہ آزادی ملتی ہے تو کسی کے ساتھ سختی کے معاملات رہتے ہیں۔ قانون کی پاسداری اگر یکساں بنیادوں پر نہیں ہوگی تو ملک کا نظام بہتر نہیں چل سکے گا۔