1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ن لیگ نے پنجاب سے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا

16 جنوری 2024

عمران خان کی جیل میں بندش، ان کی جماعت کی ’بلے‘ کے انتخابی نشان سے محرومی اور پولیس کارروائیوں نے پی ٹی آئی کے لیے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔ پی پی پی اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

https://p.dw.com/p/4bJGD
Pakistan Lahore | Rückkehr Ex-Präsident Nawaz Sharif aus dem Exil
تصویر: Aamir Qureshi/AFP/Getty Images

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے آٹھ فروری کے عام انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم کا باضابطہ طور پر آغاز کر دیا ہے۔ نواز شریف کی سیاسی وارث  سمجھی جانے والی ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے صوبہ پنجاب کے مشرقی ضلع اوکاڑہ میں پیر کے روز منعقد کی گئی ایک ریلی سے اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔

اس موقع پر مریم نواز کا اپنے حامیوں سے کہنا تھا،''آپ جتنا زیادہ ہمیں ووٹ دیں گے، آپ اپنے گھریلو اخراجات کم ہوتے دیکھیں گے۔‘‘ خیال رہے کہ ان کا یہ انتخابی اعلان پاکستان میں مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پس منظر میں کیا گیا۔

Pakistan Lahore | Rückkehr Ex-Präsident Nawaz Sharif aus dem Exil
ن لیگ نے اپنی انتخابی مہم کے آغاز کے لیے پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کا انتخاب کیاتصویر: Tanvir Shahzad/DW

اہم اپوزیشن لیڈر جیل میں بند

پاکستانی سیاست کے تجربہ کار کھلاڑی اور تین بار سابق وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف لندن میں چار سال کی خود ساختہ جلاوطنی گزارنے کے بعد گزشتہ سال وطن واپس لوٹے تھے۔ آئندہ انتخابات سے ٹھیک ایک ماہ قبل یعنی آٹھ جنوری کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے نواز شریف کے لیے چوتھی مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے اور وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بننے کا راستہ بھی ہموار کر دیا۔

عدالت نے نواز شریف کی اپیل پر  اپنے فیصلے میں سابق وزیر اعظم کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو کالعدم قرار دیا تھا جبکہ اسی دوران نواز شریف کے اصل سیاسی حریف اور سابق وزیراعظم عمران خان بدعنوانی کے مقدمے میں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کوبھی اس وقت ایک بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا،  جب سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی پر کرکٹ بیٹ کا انتخابی نشان استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی۔ اس کی وجہ سے اب پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حثیت میں مختلف نشانات کے تحت انتخاب لڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اس کے علاوہ پولیس نے اتوار کے روز پی ٹی آئی کی جانب سے کراچی شہر میں انتخابی ریلی منعقد کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اس ریلی کے منتظمین کو گرفتار کر لیا۔

Pakistan Dera Ismail Khan 2013 | Unterstützer von Imran Khan | Symbol Cricketschläger
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے اندرونی پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے بلے کے انتخابی نشان سے بھی محروم رکھاتصویر: Saood Rehman/EPA/picture alliance

خان یا شریف؟

عمران خان کو اپریل 2022 ء میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے معزول کر دیا گیا تھا۔ عمران خان نے اپنی برطرفی کو غیر قانونی اور ایک مغربی سازش قرار دیا تھا۔ اکہتر سالہ عمران خان جیل میں ہونے کے باوجود پاکستان کے مقبول ترین سیاسی لیڈروں میں سے ایک ہیں۔

ان کی زاتی حثیت میں  اور جماعت کی سطح پر بڑے پیمانے پر عوامی حمایت موجود ہے۔ عمران خان کے حامیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج  نے بھی ان کے لیڈر کی برطرفی میں کردار ادا کیا۔ پاکستانی فوج کا ملکی سیاست اور سلامتی کے امور میں کافی اثر و رسوخ ہے لیکن وہ عمران خان کی برطرفی سے متعلق الزمات کی تردید کرتی ہے۔

 نواز شریف کو اپنی دوسری وزارت عظمی کے دور میں 1999ء میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج ماضی میں  نواز شریف کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باوجود اس مرتبہ ان کی حمایت کر رہی ہے۔

Bildkombo Pakistan | Armeechef Syed Asim Munir Ahmed Shah und Ex-Premier Nawaz Sharif
ناقدین کا کہنا ہے کہ نواز شریف پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک معاہدے کے نتیجے میں پاکستان واپس آئے ہیںتصویر: AP Photo/picture alliance

انتخابی رکاوٹیں دور

پاکستانی سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے ایسے سیاستدانوں پر انتخابات میں حصہ لینے پر عائد تاحیات پابندی بھی ختم کر دی تھی، جنھیں بدعنوانی یا دیگر جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے عدالت نے سزا سنائی تھی۔

74 سالہ نواز شریف کو 2017 ء میں بدعنوانی کے مقدمے کی وجہ سے  وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ہی وہ خرابی صحت کو بنیاد بنا کر بیروں ملک چلے گئے تھے اور پھر گزشتہ برس اکتوبر میں لندن سے اپنی طویل جلاوطنی ترک کر کے پاکستان واپس پہنے تھے۔

پی ٹی آئی  کا کہنا ہے کہ وہ اپنے امیدواروں کو انتخابی میدان میں اترنے اور پاکستان پر حکومت کرنے سے روکنے کے لیے مربوط کوششوں کے باوجود انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سمیت کئی دیگر سیاستدانوں نے بھی پارلیمانی انتخابات کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔

 ش ر⁄ ر ب (اے ایف پی، روئٹرز)

نواز شریف کی واپسی، پاکستان کے لیے خوشحالی کا ایک نیا دور؟