1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نواز شریف کی ’کھلے سیاسی میدان‘ میں انتخابی مہم

13 جنوری 2024

اپنے سب سے بڑے حریف عمران خان کی جیل میں بندش اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ اشیر باد نے نوازشریف کو انتخابات میں ’فرنٹ رنر‘ بنا رکھا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں فوج کے لیے عمران خان کا راستہ روکنا ترجیح ہے۔

https://p.dw.com/p/4bA8E
Pakistan Lahore | Ehemaliger Premierminister Pakistans Nawaz Sharif
تصویر: Ali Kaifee/DW

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ملکی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد  آئندہ  ہفتے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ رواں ہفتے کے آغاز پر سپریم کورٹ نے سیاست دانوں کی  تاحیات انتخابی نااہلی کے خلاف مقدمے میں  فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ کسی سیاست دان کو زندگی بھر کے لیے نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

اس عدالتی فیصلے نے نواز شریف کے لیے آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کی راہ ہموار کری دی۔ اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف عمران خان کے جیل میں قید ہونے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ اشیر باد کے سبب نواز شریف اور ان کی جماعت کا پلڑا  آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لیے بھاری دکھائی دیتا ہے۔

Pakistan Ex-PM Imran Khan
متعدد عوامی سروے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جیل میں قید ہونے کے باوجود عمران خان پاکستان کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیںتصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

آئندہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم گزشتہ سال نومبر سے تاخیر کا شکار ہے۔ اس کی وجہ عمران خان کو دی جانے  والی قید اور انتخابی نااہلی کی سزاؤں کے بعد سے ملکی سیاست میں پید ہونے والی غیر یقنی صورتحال رہی۔

ن لیگ کی انتخابی مہم

نواز شریف کے قریبی ساتھی اور ن لیگ کے مرکزی رہنما پرویز رشید نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ''ہم 15 جنوری کو اپنی انتخابی مہم شروع کریں گے۔‘‘ اس دوران نواز شریف ملک بھر میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔

ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج سابق وزیر اعظم عمران خان سے تعلقات خراب ہونے کے سبب آئندہ انتخابات میں نواز شریف کی پشت پنائی کر رہی ہے۔  واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیا کے ماہر مائیکل کوگل مین نے کہا، ''نواز شریف انتخابات جیتنے کی دوڑ میں  سب سے آگے ہیں کیونکہ  ان کی پارٹی اور فوج کے مابین تعلقات اچھے ہوگئے ہیں۔‘‘

کوگل مین کا مزید کہنا تھا، ''پاکستانی سیاست کے منقسم اور انتقام پر مبنی ماحول میں یہ کہنا آسان ہے کہ نواز شریف عمران خان کے ایک سخت ترین حریف ہیں اور اس طرح کی صورت حال فوج کو نواز شریف کے قریب لے کر آتی ہے۔ فوج اس وقت یہ نہیں چاہتی کہ عمران خان اقتدار میں واپس آئیں۔‘‘

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس متعلق روئٹرز کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔  دوسری جانب ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بھی اپنی جماعت کے فوج کے ساتھ  تعلقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں دیا۔

Bildkombo Pakistan | Armeechef Syed Asim Munir Ahmed Shah und Ex-Premier Nawaz Sharif
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کا راستہ روکنے کے لیے فوج کے پاس واحد قابل عمل حل نواز شریف کی اقتدار میں واپسی ہےتصویر: AP Photo/picture alliance

قابل بھروسہ انتخابات؟

اسی دوران  پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر چکی ہے۔ تاہم پی پی پی کے علاوہ دو دیگر بڑی جماعتیں ن لیگ اور عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف نے ابھی تک اپنی انتخابی مہمات کا آغاز نہیں کیا۔

پی پی پی کے سربراہ اور وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے امیدوار بلاول بھٹو زرداری نے ن لیگ کی انتخابی مہم میں تاخیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے بھی یا نہیں۔

عمران خان عوامی جلسے کرنے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو  اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے انتہائی مشہور ہیں۔ تاہم وہ اس وقت جیل میں ہیں اور ان کی جماعت کے رہنماؤں اور حامیوں کو فوجی حمایت یافتہ کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو قانونی اور تکنیکی بنیادوں پر انتخابات میں حصہ لینے میں رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔

مصنفہ اور سیاسی مبصر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے، ''ہم ایک ایسے انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں لوگوں کو انتخابی عمل پر بھروسہ نہیں ہے۔  لوگ جانتے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں کہ ریاست صریح طور پر ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگا رہی ہے۔‘‘

Pakistan Fastenbrechen Eid al-Fitr
پاکستان میں افراط زر اور بے تحاشہ مہنگائی نے عام لوگوں کی ذندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہےتصویر: DW/I. Jabeen

معیشت کی تعمیرنو

نواز شریف الیکشن جیتنے کے بعد 350 بلین ڈالر کے حجم والی ملکی معیشت کی تعمیر نو کا عہد رکھتے ہیں۔ سابقہ حکومت کی جانب سے گزشتہ سال آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج کے ذریعے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے باوجود آئندہ آنے والی حکومت کو بھی شدید مہنگائی، غیر مستحکم کرنسی اور زرمبادلہ کے گرتے ہوئے ذخائر جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔

مسلم لیگ کے رہنما پرویز رشید کا کہنا ہے، ''ہم نے ہمیشہ اقتدار میں آ کر اقتصادی محاذ پر کام کیا ہے۔ پچھلی مدت کے دوران نواز شریف کی پالیسیوں کی بدولت اقتصادی ترقی کو ترجیح ملی تھی۔‘‘

نواز شریف سن 1990، 1997ء اور 2013 ء میں وزیر اعظم منتخب ہوچکے ہیں، انہوں نے 2017ء میں اپنی معزولی اور اس کے بعد بدعنوانی کے مقدمے میں سنائی جانے والی سزا کا الزام فوج پر لگایا تھا۔ تاہم فوج اس کی تردید کرتی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ نواز شریف کی معزولی روایتی حریف اور پڑوسی بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور ان کی حکومت کی طرف سے سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی وجہ سے ہوئی ۔

اوکلاہوما یونیورسٹی میں پاکستانی فوج کے سیاست میں کردار پر نظر رکھنے والیے ماہر عاقل شاہ نے کہا، ''جرنیلوں کے لیے اس بار نواز شریف ہی واحد قابل اعتماد آپشن دکھائی دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ''فوج اپنے مفادات کی بالادستی اور تحفظ کی خواہاں ہے، لہذا، ان کا کوئی مستقل دشمن یا دوست نہیں ہے۔‘‘

م ق⁄ ش ر (روئٹرز)

نواز شریف کی واپسی، پاکستان کے لیے خوشحالی کا ایک نیا دور؟