1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پی ٹی آئی کی بلے کے انتخابی نشان سے محرومی، عملی نتیجہ کیا؟

14 جنوری 2024

پاکستانی سپریم کورٹ نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات تقریباﹰ نصف شب کے وقت سنائے گئے اپنے ایک فیصلے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان سے محروم کر دیا۔

https://p.dw.com/p/4bDjN
ماضی میں بلا پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی نشان رہا ہے مگر اس مرتبہ ایسا نہیں ہو گا
ماضی میں بلا پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی نشان رہا ہے مگر اس مرتبہ ایسا نہیں ہو گاتصویر: Saood Rehman/EPA/picture alliance

پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے آئندہ قومی انتخابات کے سلسلے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی طرف سے عوامی سطح پر مقبول سیاسی جماعت پی ٹی آئی کو اس کے کرکٹ کے بیٹ یا بلے کے روایتی انتخابی نشان سے محروم کر دینے کا فیصلہ اس جماعت کے لیے بہت بڑا سیاسی اور انتخابی دھچکا ہے۔

نواز شریف کی ’کھلے سیاسی میدان‘ میں انتخابی مہم

اس عدالتی فیصلے کے حامی جہاں اسے انصاف کے تقاضوں کے مطابق کیا گیا فیصلہ قرار دے کر اس کا خیر مقدم کر رہے ہیں، وہیں پر پی ٹی آئی کے کارکن اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس پر ناخوش بھی ہیں۔

پی ٹی آئی بطور پارٹی الیکشن سے باہر

عدالتی فیصلے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ملکی انتخابی قوانین کے مطابق اپنے لازمی انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی اور یوں اسے بطور پارٹی وہی انتخابی نشان دوبارہ نہیں دیا جا سکتا، جو اس نے گزشتہ متعدد انتخابات میں بار بار استعمال کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے لیے بلے کے روایتی انتخابی نشان سے محروم کر دیا جانا بہت بڑا سیاسی اور انتخابی دھچکا ہے
پی ٹی آئی کے لیے بلے کے روایتی انتخابی نشان سے محروم کر دیا جانا بہت بڑا سیاسی اور انتخابی دھچکا ہےتصویر: Athar Hussain/REUTERS

پاکستانی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستان تحریک ناصاف اب ایک پارٹی کے طور پر اور بلے کے انتخابی نشان کے ساتھ آٹھ فروری کے قومی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی۔

پاکستان الیکشن: ’نک دے کوکے‘ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے؟

اس کا عملی طور پر ایک نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کے انتخابی امیدوارو‌ں کو کوئی ایک متفقہ انتخابی نشان نہ ملنے کی صورت میں اور پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی امیدوار نہ ہونے کی وجہ سے اب آزاد امیدواروں کے طور پر الیکشن میں حصہ لینا ہو گا اور ان کو تقریباﹰ یقینی طور پر مختلف حلقوں میں مختلف انتخابی نشان ملیں گے۔

سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف
سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریفتصویر: Ali Kaifee/DW

اس عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان بھر میں اب یہ بھی مشکل ہو جائے گا کہ پی ٹی آئی کے ووٹر ملکی انتخابات میں ووٹ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آسانی سے شناخت کر سکیں، کیونکہ کسی بھی انتخابی حلقے سے جملہ امیدواروں میں تحریک انصاف کے امیدواروں کی بیلٹ پیپر پر اپنی کوئی متفقہ منفرد شناخت نہیں ہو گی۔

سو ملین سے زائد ووٹر

پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے قومی اسمبلی اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن میں ووت دینے کے اہل شہریوں کی مجموعی تعداد 100 ملین سے زائد بنتی ہے۔

جہاں تک پی ٹی آئی کے بانی رہنما عمران خان کی ذات کا تعلق ہے، تو وہ گزشتہ سال اگست سے جیل میں ہیں اور انہیں اپنے خلاف متعدد مقدمات کا سامنا بھی ہے۔

پاکستان الیکشن کمیشن نے عمران خان کے آئندہ الیکشن کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی بھی گزشتہ ماہ مسترد کر دیے تھے۔

سپریم کورٹ کا سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ

اسلام آباد میں پاکستانی سپریم کورٹ کی عمارت
پاکستانی سپریم کورٹ نے اس بارے میں اپنا فیصلہ تقریباﹰ نصف شب کے وقت سنایاتصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

اس کے برعکس حال ہی میں پاکستانی اعلیٰ عدلیہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو یہ اجازت دے دی تھی کہ وہ اگلے الیکشن میں امیدوار ہو سکتے ہیں اور اگر ان کی جماعت کو کافی عوامی تائید ملی، تو وہ چوتھی مرتبہ سربراہ حکومت بھی بن سکتے ہیں۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کے اہم رہنما الیکشن سے باہر

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما کے طور پر نواز شریف ماضی میں تین بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور بعد میں انہیں عمر بھر کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر تقرری کے لیے نااہل بھی قرار دے دیا گیا تھا۔

نواز شریف کو ماضی میں حکومتی سربراہ کے طور پر تینوں مرتبہ برطرف ہی کیا گیا تھا اور وہ ایک بار بھی اپنے عہدے کی معمول کی قانونی مدت پوری نہیں کر سکے تھے۔

م م / ع ت (ڈی پی اے، اے ایف پی)