1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
آفاتیورپ

ترکی اور شام میں زلزلے سے ہلاکتیں اب پندرہ ہزار سے زائد

9 فروری 2023

صدر طیب ایردوآن نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد زلزلے سے نمٹنے میں بعض 'کوتاہیوں' کا اعتراف کیا ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے صرف ترکی میں ہی اب تک بارہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

https://p.dw.com/p/4NGcd
Türkei | Zerstörung nach Erdbeben Antakya
تصویر: Khalil Hamra/AP Photo/picture alliance

ترکی اور اس کے ہمسایہ ملک شام کے شمالی علاقوں میں چھ فروری کو آنے والے زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اب تک مجموعی طور پر 15000 سے بھی زیادہ لوگوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

سائنسی ترقی زلزلوں کا پیشگی پتہ چلانے میں ناکام کیوں؟

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو نے ملک کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ بیورو کے حوالے سے نو فروری جمعرات کی صبح اطلاع دی کہ زلزلے سے اب تک صرف ترکی میں ہی 12,391 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ترکی اور شام میں زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد تقریباﹰ پانچ ہزار

شام کی وزارت صحت نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد 1,200 سے زیادہ بتائی ہے جبکہ ملک کے شمال مغرب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں 'وائٹ ہیلمٹ' نام سے معروف سرگرم امدادی کارکنوں کے گروپ کا کہنا ہے کہ وہاں اب تک کم از کم 1,600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ترکی اور شام میں زلزلہ، تین سو سے زائد افراد ہلاک

 زلزلے سے متعلق مزید اقدامات کی تفصیل

ترکی کے وزیر خارجہ میلاد اولو چاؤش نے بدھ کے روز کہا کہ ان کا ملک شام کے لیے دو اضافی سرحدی راستے کھولنے پر کام کر رہا ہے تاکہ جنگ زدہ ملک میں انسانی امداد کی فراہمی کو مزید آسان بنایا جا سکے۔

Türkei | Zerstörung nach Erdbeben Antakya
پابندیوں سے بری طرح متاثر ہونے والی شامی حکومت نے بھی ہنگامی طور پر امداد کے لیے یورپی یونین سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہےتصویر: Khalil Hamra/AP Photo/picture alliance

دوسری جانب یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن نے کہا کہ تباہ کن زلزلے کے پیش نظر ترکی اور شام کر امداد دینے کے لیے ایک بین الاقوامی ڈونر کانفرنس مارچ میں منعقد کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ادھر استنبول اسٹاک ایکسچینج نے اس زلزلے کے ردعمل میں تقریباً 24 برسوں بعد پانچ دن کے لیے اپنا بازار بند رکھنے کا اعلان کیا۔

اس دوران ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے کا دورہ کیا اور اس حوالے سے حکومت کے ردعمل میں بعض ''کوتاہیوں '' کا بھی اعتراف کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ''یقینا بعض کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ حالات پوری طرح سے واضح ہیں۔ اس طرح کی بڑے پیمانے کی تباہی کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ممکن نہیں ہے۔''

یورپی یونین کے کمشنر برائے بحرانی انتظام کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے بری طرح متاثر ہونے والی شامی حکومت نے بھی ہنگامی طور پر امداد کے لیے یورپی یونین سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے۔

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، ڈی پی اے) 

دنیا بھر نے ترکی اور شام کو مدد کی پیش کش کر دی