1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
آفاتترکی

ترکی اور شام میں زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد تقریباﹰ پانچ ہزار

7 فروری 2023

دونوں ممالک میں امدادی ٹیمیں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترکی میں ہزاروں انسانی جانوں کے نقصان پر سات روزہ سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ زلزلہ زدگان کے لیے بین الاقوامی امداد بھی پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/4NBBS
Syrien Harim Dorf Besnia | schwere Schäden nach Erdbeben
تصویر: OMAR HAJ KADOUR/AFP

ترکی اور شام میں پیر چھ فروری کو علی الصبح آنے والے ہولناک زلزنے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تقریباﹰ پانچ ہزار ہو گئی ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک کے حکام کے مطابق ہنگامی امدادی کارکن زلزلے سے متاثرہ افراد کی تلاش اور ان کی امداد کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ترکی میں اب تک 3381 افراد جبکہ شام میں سولہ افراد سے زائد اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ترکی میں حکام نے وسیع پیمانے پر ہلاکتوں اور نقصان پر سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

Schwere Erdbeben in Syrien und der Türkei
شمال مغربی شام کے صوبے ادلب کے ایک قصبے سرمادہ میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کا ایک منظر تصویر: MUHAMMAD HAJ KADOUR/AFP/Getty Images

شام میں بھی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

سرکاری ذرائع سے ملنے والی خبروں اور امدادی کارکنوں کے مطابق شام میں اس زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 1602 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا کے مطابق حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں کم از کم 812 افراد ہلاک ہوئے۔ ایک شامی امدادی تنظیم وائٹ ہیلمٹس کے مطابق  ملک  کے شمال مغرب میں اپوزیشن فورسز کے زیر قبضہ علاقے میں  790 افراد ہلاک اور 2200 زخمی ہوئے۔ ان ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

شامی وزارت ثقافت نے بتایا کہ حلب، حما اور طرطوس کے صوبوں میں زلزلے کے نتیجے میں کچھ تاریخی عمارتیں بھی تباہ ہوئیں۔ سب سے زیادہ نقصان حلب کے تاریخی قلعے کو پہنچا۔

استنبول میں اگلے تباہ کن زلزلے میں ’لاکھوں ہلاکتوں‘ کا خدشہ

اسکندرون بندرگاہ پر خوفناک آتشزدگی

جنوب مشرقی ترکی میں زلزلے سے متاثرہ بندرگاہ اسکندرون میں بہت بڑی آگ لگی ہوئی ہے۔ جائے وقوعہ سے ملنے والی فوٹیج میں بحیرہ روم کے کنارے واقع اس بندرگاہ میں جلتے ہوئے کنٹینروں سے سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ خیال ہےکہ یہ آگ پیر کے زلزلے کے دوران کنٹینر گر نے سے بھڑک اٹھی۔ ترکی کی سرکاری خبر ایجنسی انادولو کے مطابق ترک کوسٹ گارڈز کا ایک جہاز اس آگ بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

Türkei | Erdbeben Iskenderun
اسکندرون بندرگاہ پر زلزلے کے بعد لگنے والی آگ سے فضا ‍ء میں بلند ہونے والا دھواں تصویر: Efekan Akyuz/Depo Photos/abaca/picture alliance

مشرقی ترکی میں 5.4 شدت کا زلزلہ

امریکی جیولوجیکل سروے نے مشرقی ترکی میں ریکٹر اسکیل پر 5.4 شدت کا نیا زلزلہ بھی ریکارڈ کیا ہے۔ دریں اثنا ترکی کی ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) نے کہا ہے کہ پیر کے زلزلے کے بعد سے ترکی اور شام کے سرحدی علاقے میں زلزلے کے 243 ضمنی جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں۔

اے ایف اے ڈی کے سربراہ یونس سیزر کا کہنا ہے کہ خراب موسمی حالات متاثرین کی تلاش اور ریسکیو کارروائیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین  یو این ایچ سی آر کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے ترجمان رولا امین نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ لوگ اپنے گھروں میں رہنے سے خوفزدہ ہیں لیکن سردی کے موسم میں ان کے پاس پناہ کی کوئی جگہ بھی نہیں ہے۔

ترکی میں انسانوں کے لائے ہوئے زلزلے کا خطرہ، انقرہ کے میئر

زلزلے سے 13.5 ملین افراد براہ راست متاثر

ترک وزیر برائے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی مراد کوروم نے کہا ہے کہ جنوبی ترکی میں آنے والے زلزلوں سے 13.5 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس وزیر کے مطابق امدادی کارروائیاں کرنے والی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے کے نیچے پھنسے لوگوں تک پہنچنے کی کوششیں کر رہی ہیں اور اس حوالے سے ابتدائی 72 گھنٹے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

 ایک صدی میں ریکارڈ کیے جانے والے شدید ترین زلزلوں میں سے ایک سمجھے جانے والے اس زلزلے کے بعد ترکی میں سات روزہ قومی سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس زلزلے سے جنوبی ترکی کے دس صوبے متاثر ہوئے ہیں۔ صرف ترکی میں ہی 3,300 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ترکی کی ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (اے ایف اے ڈی) نے کہا کہ پیر کے تباہ کن زلزلوں کے بعد اب تک 3,381 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس ایجنسی نے منگل کی صبح ایک بریفنگ میں یہ بھی بتایا کہ 20,436 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ بہت سی تباہ شدہ عمارات کے ملبے کے نیچے پھنسے متاثرین کی تلاش بھی جاری ہے۔

Türkei Hatay Erdbeben
ترکی کے شہر حطائے میں ایک رہائشی زلزلے سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے پر کھڑا ہےتصویر: Umit Bektas/REUTERS

اے ایف اے ڈی نے کہا کہ 5,775 عمارتیں منہدم ہوئیں جبکہ 11,802 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اس ایجنسی کے حکام کے مطابق آفت زدہ علاقے میں 24,000 سے زیادہ اہلکار دن رات کام کر رہے ہیں جبکہ مختلف امدادی ایجنسیاں اور رضاکار بھی ریسکیو کوششوں میں شامل ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خراب موسمی حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی، جو متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی ریسکیو ٹیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ترکی نے زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں امدادی ٹیمیں اور ایمبولینسیں روانہ کی ہیں۔ ترک وزیر صحت فرحت دین کوجا نے کہا کہ 813 ایمبولینسیں متاثرہ علاقوں میں مصروف عمل ہیں۔

بین الاقوامی امداد

جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے امدادی کارکنوں کو ہنگامی طبی سامان کے ساتھ ترکی بھیجنے کا حکم جاری کیا ہے۔ سیول میں صدارتی دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر یون نے متعلقہ سرکاری ایجنسیوں کو حکم دیا کہ وہ ترکی کی بھرپور مدد کریں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی پیر کو دیر گئے ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے فون پر بات کی اور اس قدرتی آفت کے بعد ترکی کی مدد کے لیے 'ہر قسم کی اور ہر طرح کی‘ امداد کا وعدہ کیا۔

Syrien Erdbeben Zerstörung in Aleppo
ترکی اور شام میں امدادی کارکن تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیںتصویر: Louai Beshar/AFP

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن نے ''اس سانحے کے جواب میں ہمارے نیٹو اتحادی ترکی کو ہر طرح کی ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے امریکہ کی تیاری کا اعادہ کیا۔‘‘ وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے بھی کہا کہ بائیڈن انتظامیہ ترک حکام کی مدد کے لیے  79 افراد پر مشتمل سول سرچ اینڈ ریسکیو کی دو ٹیمیں ترکی بھیج رہی ہے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک نے بھی تقریباً 20 امدادی ٹیمیں ترکی بھیج دی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

ش ر / م م (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)

دنیا بھر نے ترکی اور شام کو مدد کی پیش کش کر دی