1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سائنسشمالی امریکہ

ماضی میں جھانکنے والی غیرمعمولی اور انقلابی دوربین

25 دسمبر 2021

امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نامی ایک انتہائی طاقت ور دور بین خلا میں روانہ کر دی ہے۔ اس دوربین کے ذریعے کائنات کی ابتدا سے متعلق اہم معلومات حاصل ہو گی۔

https://p.dw.com/p/44pL8
Still DW Beitrag James Webb telescope ready for launch
تصویر: Cornelia Borrmann/DW

ہفتے کے روز جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ جنوبی امریکا کی شمال مشرقی ساحلی پٹی سے خلا میں روانہ کی گئی۔  نو ارب ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ اس انفراریڈ ٹیلی اسکوپ کو خلائی رصدگاہی سائنس میں ایک نئے باب کا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ آریان فائیو راکٹ کے ذریعے اس دوربین کو آج ہفتے کی صبح عالمی وقت کے مطابق ساڑھے بارہ بجے یورپی اسپیس ایجنسی کے ذریعے فرنچ گنی کے علاقے سے خلا میں بھیجا گیا۔

آٹھویں سیارے کی دریافت میں ناسا نے مصنوعی ذہانت استعمال کی

نیپچون کا 14واں چاند دریافت

یہ لانچ ناسا اور یورپی اسیس ایجنسی ایسا کی ویب کاسٹ پر براہ راست نشر کی گئی۔ اگر سب کچھ طے شدہ انداز سے انجام پاتا  ہے تو یہ چودہ ہزار پاؤنڈ وزنی آلہ خلا میں پہنچنے کے بعد اگلے تیرہ روز میں تہہ بہ تہہ کھلتے ہوئے ٹینس کے ایک میدان کے برابر ہو جائے گا، جب کہ مزید دو ہفتے سفر طے کرتے ہوئے یہ اپنی مقررہ منزل پر پہنچے گی۔ یہ دوربین زمین کی سطح سے ایک ملین میل کی مسافت یعنی سورج سے بھی چار گنا زائد دوری پر زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے اپنا کام کرے گا۔

Infografik Die Umlaufbahn von Webbs Space Teleskop EN
جیمز ویب دوربین چاند سے بھی زائد فاصلے پر زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے اپنا کام کرے گی

دوربین ماضی میں جھانکے گی

اس وقت زمین سے تین سو چالیس میل دور ہبل خلائی دوربین موجود ہے، جسے چکر لگاتے ہوئے ہر نوے منٹ میں سیارے کے سائے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ویب ٹیلی اسکول ہبل سے سو گنا زیادہ حساس ہے اور اپنے انفراریڈ اسپیکٹرم کے ذریعے خلائی دھول اور گیس کے اندر سے دوسری طرف جھانک لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس دوربین کے ذریعے بگ بینگ کے بعد بننے والے ابتدائی ستاروں کو دیکھا جا سکے گا، جب کہ کائنات میں زمین اور نظام شمسی کی جگہ کا بھی بہتر انداز سے تعین ممکن ہو گا۔

سورج پر ہونے والے دھماکے

جیمز ویب کائنات کو انفراریڈ اسپیکٹرم کی مدد سے دیکھے گی اور یوں خلائی گیس اور دھول میں پیدا ہونے والے ستاروں کو دیکھا جا سکے گا۔ یہ بات اہم ہے کہ ہبل دوربین عدسے اور بالائے بنفشی طول موج کے ذریعے کائنات کو دیکھتی ہے۔

جیمز ویب ٹیلی اسکوپ، ایک غیرمعمولی دوربین

نئی دوربین کا پرائمری عدسہ اٹھارہ ہیگزاگونل سیگمنٹس سے بنا ہے، جنہیں سونے کی ملمع کاری کی حامل بیریلیم دھات میں رکھا گیا ہے۔ اس دوربین میں ہبل سے کہیں زیادہ روشنی جمع کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس کا مطلب کائنات میں اس دوربین کا زیادہ وسعت تک جھانکنا یعنی ہبل یا کسی بھی دوسری دوربین کے مقابلے میں ماضی میں زیادہ پیچھے تک دیکھنے کی صلاحیت ہے۔

ع ت/ ع ح (روئٹرز)