1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نیپچون کا 14واں چاند دریافت

افسر اعوان16 جولائی 2013

خلائی دوربین ہبل سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والے ایک ماہر فلکیات نے ہمارے نظام شمسی کے سیارہ نیپچون کے گرد گردش کرنے والے ایک اور چاند کا پتہ لگایا ہے۔ اس طرح نیپچون کے چاندوں کی تعداد بڑھ کر اب 14 ہو گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/198yY
تصویر: picture-alliance/dpa

امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا کی طرف سے اس نئے چاند کی دریافت کا اعلان پیر 15 جولائی کو کیا گیا۔ اندازوں کے مطابق اس نئے دریافت شدہ چاند کا قطر 20 کلومیٹر ہے جبکہ یہ اپنے سیارے نیپچون کے گرد 105,251 کلومیٹر کے فاصلے پر گردش کر رہا ہے۔

اس نئے چاند کو دریافت کرنے والے ماہر فلکیات مارک شو والٹر Mark Showalter کا تعلق کیلیفورنیا کے SETI انسٹیٹیوٹ سے ہے۔ وہ دراصل ہبل سے حاصل ہونے والی تصاویر میں سیارہ نیپچون کے گرد دھندلے رنگ میں چاندوں کو تلاش کر رہے تھے، جس میں ناکامی کے بعد انہوں نے اپنی تلاش آسمان کے زیادہ وسیع حصے تک پھیلانے کا فیصلہ کیا۔

Zuwachs im Sonnensystem voraussichtlich drei neue Planeten
تصویر: picture-alliance/ dpa

شو والٹر نے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’’ہم حاصل شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کافی عرصے سے کر رہے تھے، پھر اچانک مجھے خیال آیا کہ ہم اپنی تلاش کا دائرہ کار بڑھاتے ہیں۔‘‘

’’میں نے اپنا خصوصی طور پر تیار کردہ کمپیوٹر پروگرام تبدیل کیا اور اسے محض رِنگ کے باہر کے حصے تک کے تجزیے کی بجائے اسے تمام تر ڈیٹا کے تجزیے پر لگا دیا اور گھنٹہ بھر انتظار کے بعد جب میں تجزیہ شدہ تصاویر کا جائزہ لیا تو اس میں یہ ایکسٹرا ڈاٹ بھی موجود تھا، جس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔‘‘

اس کے بعد جب ہبل ٹیلی اسکوپ سے نیپچیون کے موصول شدہ امیجز کے مفصل تجزیے کیے گئے تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ ایک چاند ہے۔ نئے دریافت شدہ چاند کو فی الحال S/2004 N 1 کا نام دیا گیا ہے اور یہ سیارہ نیپچون کے گرد 23 گھنٹوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔

نیپچیون کا سب سے بڑا چاند ٹریٹون 1846ء میں اس سیارے کے دریافت ہونے کے چند دن بعد ہی دریافت ہوا تھا۔ جبکہ اس سیارے کا تیسرا سب سے بڑا چاند نیریڈ Nereid 1949ء میں دریافت ہوا تھا۔