1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس کی ٹینس اسٹار کساتکینہ کا کہنا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں

19 جولائی 2022

عالمی سطح پر 12ویں نمبر کی کھلاڑی ڈاریہ کساتکینہ کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے با اثر ستاروں کو دوسروں کے لیے مشعل راہ بننے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ماہ روس کی ایک فٹ بال کھلاڑی نے بھی ہم جنس پرست ہونے کا اعلان کیا تھا۔

https://p.dw.com/p/4EKgi
Daria Kasatkina
تصویر: Mathias Schulz/IMAGO

روس کی ٹینس اسٹار ڈاریہ کساتکینہ نے اعلان کیا ہے کہ اصل میں وہ ایک ہم جنس پرست ہیں۔ یوٹیوب پر ایک ویڈیو انٹرویو کے دوران انہوں نے ہم جنس پرستوں کے ساتھ روس میں جس طرح کا سلوک برتا جاتا ہے اس پر بھی تنقید کی۔

معروف ویڈیو بلاگر وتیا کراوچینکوف کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹینس اسٹار ڈاریہ کساتکینہ نے کہا، ''جیسا کہ کہا جاتا ہے، کوٹھری میں بند رہنا تو بے معنی ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اس بارے میں جب تک آپ اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرتے اس وقت تک یہ ہمیشہ آپ کے دماغ میں گھومتا رہے گا۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کب، کس طرح سے اور کتنا کھلنا ہے۔''

25 سالہ ٹینس کھلاڑی نے اس حقیقت پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ روس میں ''ممنوعہ موضوعات'' کی فہرست بہت طویل ہے۔ انہوں نے کہا، ''میرا ماننا ہے کہ کھیل کی دنیا کے یا پھر کسی دوسرے شعبے سے تعلق رکھنے والے با اثر لوگوں کو اس بارے میں کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔''

ان کا مزید کہنا تھا، ''یہ ان نوجوانوں کے لیے بہت اہم ہے جو معاشرے کے ساتھ بہت مشکل وقت گزارتے ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔''

اپنے ویڈیو انٹرویو کے شائع ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی کساتکینہ نے انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ اپنی ایک دوست خاتون کو

 جامنی رنگ کے دل کی ایموجی کے ساتھ گلے لگا رہی ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اسی خاتون کی ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ''میری پیارے دل کے ٹکڑے۔''

روس میں 'غیر روایتی' تعلقات پر بحث پر پابندی کی تجویز

روس میں بہت سے قانون سازوں نے پیر کے روز ہی عوامی حلقوں میں ''غیر روایتی'' جنسی تعلقات کے بارے میں کسی بھی بحث پر پابندی لگانے کی ایک تجویز پیش کی تھی اور اسی کے چند گھنٹوں کے بعد ہی کساتکینہ کا یہ اعلان سامنے آیا۔

 WTA Premier St Petersburg | Russische Tennisspielerin Darya Kasatkina
تصویر: Alexander Demianchuk/TASS/dpa/picture alliance

فرنچ اوپن کے سیمی فائنلسٹ نے کہا کہ ''یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے'' کہ روس ہم جنس پرستی کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

روس نے سن 2013 میں اس حوالے سے ''ہم جنس پرستوں کے پروپیگنڈہ'' کے نام سے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ہم جنس پرستوں کو پرائیڈ مارچ نکالنے کی اجازت نہیں ہے اور اس قانون کا استعمال ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکنوں کو حراست میں لینے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

کساتکینہ نے فٹ بال کھلاڑی کے اعلان کی تعریف کی

کساتکینہ نے راہ ہموار کرنے کے لیے ہم جنس پرست فٹبال کھلاڑی نادیزہدا کارپووا کی تعریف کی، جنہوں نے گزشتہ جون میں اپنے آپ کو ہم جنس پرست ہونے کا اعلان کیا تھا اور اس طرح وہ ایسا کرنے والی روس کی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئیں۔

کساتکینہ نے کہا، ''ان کے لیے میرا احترام، میں ان کے لیے بہت خوش تھی، لیکن دوسرے لوگوں کو بھی، خاص طور پر لڑکیوں کو بھی یہ جاننے کی ضرورت تھی۔''

انہوں نے کہا کہ سن 2018 میں روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے بعد سے زیادہ کھلے پن کے لیے زور دیا جاتا رہا تھا، تاہم یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے اس کی رفتار ختم ہو گئی۔

اس دوران جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ وہ زندگی میں سب سے زیادہ کس چیز کی متمنی ہیں، تو انہوں نے موجودہ تنازعے کو ایک ''مکمل ڈراؤنا خواب'' قرار دیتے ہوئے کہا: ''جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔''

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی، اے پی)

ایرانی ہم جنس پرست ایران سے باہر بھی خوف کا شکار

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں