1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتپاکستان

آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین ’سخت مذاکرات‘ کا سلسلہ جاری

9 فروری 2023

عالمی مالیاتی فنڈ کے وفد کا آج پاکستان میں آخری روز ہے لیکن نیا مالی پیکج حاصل کرنے کے لیے پاکستانی حکام اور یہ وفد ابھی تک کسی اتفاق رائے پر نہیں پہنچ سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ’انتہائی سخت‘ ہیں۔

https://p.dw.com/p/4NIVj
IWF Logo, Schild
تصویر: Maksym Yemelyanov/Zoonar/picture alliance

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کا آج پاکستان میں آخری طے شدہ دن ہے لیکن پاکستانی اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان اہم معاشی بیل آؤٹ پیکج کے اجرا کے لیے مذاکرات ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے۔

بگڑتی ہوئی معیشت، سکیورٹی کی مخدوش صورتحال، ادائیگیوں کے توازن کے بحران، بیرونی قرضوں کے بوجھ اور سیاسی افراتفری سے نبرد آزما پاکستان کے لیے 6.5 بلین ڈالر کا یہ اقتصادی پیکج انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں سے آئی ایم ایف اب تک نصف رقم ادا کر چکا ہے۔

اگلی مالی قسط کے اجرا کی شرائط طے کرنے کے لیے یہ وفد گزشتہ ہفتے اسلام آباد پہنچا تھا لیکن پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق آئی ایم ایف نے اتنی سخت شرائط رکھی ہیں کہ وہ ''ناقابل تصور‘‘ ہیں۔

 اقتصادی تجزیہ کار اور عالمی بینک کے سابق مشیر عابد حسن کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے مطالبات واضح طور پر ان شرائط سے کہیں زیادہ ہیں، جو حکومت ماننے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق اب دونوں فریق اس انتظار میں ہیں کہ پہلے اپنے موقف سے کون دستبردار ہو گا؟

آئی ایم ایف کا وفد ٹیکس میں 20 فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدی شعبے کے لیے ٹیکسوں کی رعایت اورایندھن پر حکومتی سبسڈی کے خاتمے زور دے رہا ہے۔ اس کا یہ بھی اصرار ہے کے حکومت دوست ممالک بشمول سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ عالمی بینک سے مزید مالی مدد کی ضمانتیں حاصل کرے اور پائیدار طریقے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کو یقینی بنائے۔

پاکستان میں مہنگائی نے ’دو وقت کی روٹی کمانا مشکل کر دی‘

مذاکرات آخری مرحلے میں داخل

جمعرات کو پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی بیل آؤٹ پیکج سے متعلق ''مذاکرات کا آخری دور‘‘ جاری ہے۔

 قبل ازیں وزیر توانائی خرم دستگیر نے بدھ کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کے پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے اور گزشتہ دس دنوں میں فریقین کے مابین تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں ان مذاکرات کے کامیاب ہونے کی پوری امید ہے۔

کیا ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا؟

سالہاسال کی مالی بدانتظامی اور سیاسی عدم استحکام نے پاکستانی معیشت کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے جبکہ گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب اور ایندھن کے عالمی بحران کی وجہ سے بھی اس ملک کے معاشی حالات مزید بگڑے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور حکومت پر دن بدن دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

حال ہی میں حکومت نے امریکی ڈالر کی بلیک مارکیٹ میں فروخت پر قابو پانے کے لیے ایسے اقدامات کیے تھے، جن کی وجہ سے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر روپے کے مقابلے میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی حکام نے ایندھن کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ کر دیا تھا۔

ایک اعلی سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ آئی ایم ایف کا وفد ملک میں بجلی اور ایندھن کی موجودہ قیمتوں سے مطمئن نہیں ہے اور دوسری جانب توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشے کے باعث ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پٹرول کی ذخیرہ اندوزی شروع ہو گئی ہے۔

دریں اثناء وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے یہ واضح کیا ہے حکومت پٹرول کی قیمت میں مزید اضافے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

م ا / ا ا (اے ایف پی)

پاکستان: عوام کے لیے زندگی کی ضروریات پوری کرنا دو بھر