1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

25 لاکھ مسلمان اس سال حج کریں گے، حکام

25 جون 2023

سعودی وزارت برائے عمرہ و حج کی جانب سے کہا ہے کہ اس سال منتظمين پچيس لاکھ سے زائد حاجيوں کی توقع کر رہے ہيں۔

https://p.dw.com/p/4T2av
Vorbereitung auf den Haddsch
تصویر: RANIA SANJAR/AFP/Getty Images

26 جون سے سعودی شہر مکہ ميں مناسک حج کی ادائیگی شروع ہو رہی ہے۔ پير سے دنيا بھر سے آئے ہوئے زائرين مختلف مقامات پر مناسک حج ادا کريں گے، جس کے بعد عيد الاعضحی منائی جانا ہے۔

'کورونا وبا کے بعد سب سے بڑا حج‘

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے تناظر ميں سن 2020 ميں پابندياں نافذ کر دی گئی تھيں تاہم رواں سال لاکھوں مسلمان کسی بھی قسم کی پابنديوں کے بغير حج کر رہے ہیں۔ سن 2019 ميں چوبيس لاکھ مسلمانوں نے حج کيا تھا۔ مگر اس سال 25 لاکھ مسلمان حج کر رہے ہیں۔
حج کے پرعزم سعودی منصوبے کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا

سعودی عرب کے لیے براہ راست حج پروازیں زیر غور، اسرائیل

کووڈ انيس کی وبا سے پہلے تقریباً 2.5 ملین افراد نے جج ميں حصہ لیا تھا۔ عالمی وباء کے عروج پر 2020ء میں صرف 10,000 زائرين کو حج کی اجازت دی گئی تھی، جو 2021 میں بڑھ کر تقریباً 59,000 تک پہنچ گئی۔

خانہ کعبہ کے احاطے ميں ایمبولینس، موبائل کلینکس اور فائر بريگيڈ کی گاڑیوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ حج سعودی حکام کے ليے ایک سیکورٹی چیلنج بھی ہے۔ ماضی ميں کئی ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہو چکے ہيں، جن میں سن 2015 کی بھگدڑ بھی شامل ہے، جس میں 2,300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حج، دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کے لیے سالانہ اربوں ڈالر کی کمائی کا ذريعہ بھی بنتا ہے۔ رياض حکومت کی کوشش ہے کہ اپنی معیشت کو فوسل فیول پر دارومدار سے آگے بڑھايا جائے اور زيادہ متنوع بنايا جائے۔

شديد گرمی کی لہر

حج کے دوران شديد گرمی بھی زائرین کی برداشت کا امتحان ہو گی۔ حاجيوں کو چلچلاتی دھوپ سے بچانے کے لیے سفید چھتریوں کا انتظام کيا گيا ہے۔ آئندہ چند ايام ميں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ مسجد کے اندر ہزاروں پیرامیڈیکس تعينات ہيں۔ سعودی حکام نے کہا کہ ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور تھکن کے کیسز سے نمٹنے کے لیے 32,000 سے زائد ہیلتھ ورکرز موجود ہيں۔

غلاف کعبہ کیسے تیار کیا جاتا ہے؟

ع س/ا ب ا (اے ایف پی)