1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کیا راہول گاندھی کی یاترا سے بدلے گا قوم کا مزاج؟

10 جنوری 2023

سفر اور سیر و سیاحت کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے، آج کل بھارت میں اپوزیشن کانگریس پارٹی کے لیڈر راہول گاندھی ملک کے طول و عرض کا پیدل سفر کر رہے ہیں۔ کیا راہول گاندھی اپنی اس یاترا سے قوم کا مزاج بدل پائیں گے؟

https://p.dw.com/p/4LwTj
Iniden Rahul Gandhi Vorsitzender oppositionelle Kongresspartei
تصویر: Altaf Qadri/AP/picture alliance

استادوں کا کہنا ہے کہ سفر میں برکت ہو تی ہے۔ اس سے وہ علم و حکمت اور تجربات حاصل ہوتے ہیں، جو کئی ہزار کتابیں پڑھنے یا کسی مدرسے یا یونیورسٹی کے کلاس روم میں حاصل نہیں ہوتے۔ اسی لیے شاید پرانے زمانے میں پیغمبر، صوفی بزرگ اور علم و روحانیت کے متلاشی افراد دور دراز ممالک کی سیاحت کے لیے نکلتے تھے۔ سکھ مذہب کے بانی گورو بابا نانک نے تو اپنی زندگی کا بڑا حصہ سیر و سیاحت میں گزارا۔

کالج میں پولیٹیکل سائنس کے میرے ایک پروفیسر صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر آپ واقعی کثیر الجہتی بھارت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کریں۔ آپ کو ملک اور اس کے لوگوں کی نبض کا پتہ چل جائے گا۔ سفر اور سیر و سیاحت کی اس روایت کو زندہ کرتے ہوئے، آج کل بھارت میں اپوزیشن کانگریس پارٹی کے لیڈر راہول گاندھی ملک کے طول و عرض کا پیدل سفر کر رہے ہیں۔

Rohinee Singh - DW Urdu Bloggerin
راہول گاندھی کے لیے سب سے بڑا چلینچ بی جے پی کے بیانیے کے اثر کو کسی نہ کسی طرح زائل کرنا ہوگا، روہنی سنگھ تصویر: Privat

بحر ہند کے ساحل پر انتہائی جنوبی پوائنٹ کنیا کماری سے یہ سفر شروع کرکے وہ ابھی حال ہی میں ایک سو دن میں تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے نئی دہلی پہنچے اور اگلے مرحلے میں اب اس ماہ کے آخر تک جموں و کشمیرکے دارالحکومت سرینگر میں اس سفر کا اختتام کریں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ 2014ء سے دو پارلیمانی انتخابات اور 40 کے قریب مختلف ریاستی انتخابات میں کراری شکست کے بعد ان کو لگا ہے کہ بھارت کو ایک بار اور دریافت کرنا چاہیے۔ آخر ملک میں ایسی کیا تبدیلی آئی ہے، کہ ان کی کانگریس پارٹی کے انتخابی نشان ہاتھ کا کوئی ہاتھ پکڑے والا نہیں؟

بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے آزادی سے قبل احمد نگر کے قلعے کی جیل میں تاریخی کتاب Discovery of India یعنی بھارت کی دریافت یا کھوج  لکھی تھی۔ ان کے پڑ پوتے یعنی راہول گاندھی اس سے کئی قدم آگے بڑھتے ہوئے عملی طور پر بھارت کوکھوجنے کے لیے قریہ قریہ گلی گلی ملک کے جنوبی سرے سے شمالی سرے تک پیدل مارچ کر رہے ہیں۔

کسے معلوم تھا کہ ستر سالوں کے بعد ملک میں حکومت کر چکی اور اس خطے کی پہلی سیاسی جماعت کانگریس کی حالت ایسی ہو جائے گی کہ اس کے لیڈران کو بھارت کو ایک بار پھر دریافت کرنا پڑے گا۔

بتایا جاتا ہے کہ راہول گاندھی کی ”بھارت جوڑو یاترا" پارٹی کو از سر نو منظم کرنے کے علاوہ سول سوسائٹی کے افراد کے ساتھ مل بیٹھنے کی ایک کاوش ہے۔ اس کے علاوہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سخت گیر ہندوتوا نظریے کے مخالفین کو منظم کرکے اس کے خلاف ایک نظریاتی محاذ بنانے کی تگ و دو ہے۔

اپنے اس سفر میں راہول ہر روز نہ صرف عام لوگو ں سے بلکہ کانگریس پارٹی کے ان سابق کارکنان اور خیرخواہوں سے بھی مل رہے ہیں، جو پارٹی سے امید کھو چکے تھے۔ پارٹی کی پے درے پے ہار سے یہ سبھی ناامید ہو چکے تھے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ ایند اینالیسز ونگ یعنی را کے سابق سربراہ امر جیت سنگھ دلت کے علاوہ جنوب بھارت کی فلم اداکار کمل ہاسن سے لیکر شہری حقوق کے کارکن یوگیندر یادو تک نے ان کے مارچ میں شرکت کی۔

جب راہول نے یہ یاترا شروع کی تو ان کے ناقدین نے اسے ایک اور غیر سنجیدہ پیش قدمی قرار دینے کی کوشش کی۔ اور جب اس کو عوامی حمایت حاصل ہونے لگی تو کہا جانے لگا کہ ابھی 2024ء کے انتخابات دور ہیں، تب تک اس کا اثر زائل ہو جائے گا۔ اس دوران راہول گاندھی کی بدلی ہوئی شکل و صورت پر بھی آوازیں کسی گئیں۔ ان کی بڑی  ہوئی داڑھی مونچھیں کی وجہ سے ان کو عراق کے ڈکٹیٹر صدام حسین سے تشبیہ دی گئی۔

اس یاترا کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک طویل مدت کے بعد کانگریس نے نظریاتی طور پر بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کیا۔ اس سے قبل خاص طور پر راہول گاندھی بی جے پی کے سخت گیر ہندو توا کے مقابلے نرم ہندو توا کے علمبردار بن گئے تھے۔ اس لیے ان کو بی جے پی کی ”بی" ٹیم سے بھی تشبہہ دی جاتی تھی۔ سوال کیے جاتے تھے، اگر عوام کے پاس بغیر ملاوٹ کے ہندو توا موجود ہے، اور اگر ان کو اسی پر ووٹ کرنا ہے، تو وہ کیوں ملاوٹ والے ہندو توا کی طرف جائیں گے۔ خیر لگتا ہے کہ کانگریس کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ نظریاتی طور پر بی جے پی اور اس کے لیڈر نریندر مودی کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔

راہول پولرائزیشن کی سیاست پر سیدھا حملہ کرتے ہیں اور یہ نعرہ دیتے ہیں کہ وہ کثیر الجہتی، رنگا رنگ تہذیب اور مختلف مذاہب والے اس ملک کو متحد کرنے کے لیے نکلے ہیں۔ بی جے پی کے لیڈران کا کہنا ہے کہ راہول تو بھارت کو متحد کرنے نکلے ہیں، مگر مودی تو پوری دنیا کو بھارت کی لیڈرشپ کے تحت متحدکرنے نکلے ہیں۔ ان کا کہنا ہے اس سال بھارت گروپ 20 ممالک یعنی جی 20 کی صدارت کر رہا ہے اور اسی سال ستمبر میں نئی دہلی میں اس کے رہنماؤں کے چوٹی کے اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔

اس پر اتنا طوفان بدتمیزی کھڑا کیا گیا ہے کہ جیسے اقوام عالم میں مودی نے بھارت کو کوئی بڑی سیٹ دلوائی ہے۔ اب ان سے کون کہے کی جی 20 کی سربراہی ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے اور اس گروپ کا کوئی سیکرٹریٹ بھی کہیں نہیں ہے۔ اس سال یہ صدارت برازیل اور پھر اگلے سال جنوبی افریقہ کے پاس جائے گی۔ اس سے قبل اس گروپ میں شامل ہر کسی ملک کے پاس یہ صدارت رہی ہے۔

نہ صرف جی20 کی سربراہی بلکہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور اس کو درشن کے لیے اگلے سال جنوری میں کھولنا، مودی کی ذاتی کامیابیاں بتائی جا رہی ہیں۔ راہول گاندھی کے لیے سب سے بڑا چلینچ اس بیانیے کے اثر کو کسی نہ کسی طرح زائل کرنا ہوگا۔ اس دوران سب سے اہم بات یہ ہو گئی ہے کہ رام مندر کے مہنت (پجاری) اور اس کے دیگر ذمہ داروں نے بھی راہول گاندھی کی یاترا کی حمایت کی ہے، جس سے لگتا ہے کہ اس پیدل مارچ نے کہیں نہ کہیں یا تو ہندو توا کے نظریے میں دراڑ ڈال دی ہے، یا بی جے پی کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچایا ہے۔

اب کیا یہ یاترا انتخابی طور پر کانگریس کو فائدہ پہنچائے گی، یہ وقت ہی بتائے گا۔ تب تک ساحر لدھیانوی کی یہ مشہور نظم گنگناتے رہیے۔

وقت کی ٹھوکر میں ہے

کیا حکومت کا سماج

وقت ہے پھولوں کی سیج

وقت ہے کانٹوں کا تاج

آدمی کو چاہیے

وقت سے ڈر کر رہے

کون جانے کس گھڑی

وقت کا بدلے مزاج

 

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

Rohinee Singh - DW Urdu Bloggerin
روہنی سنگھ روہنی سنگھ نئی دہلی میں مقیم فری لانس صحافی ہیں۔