1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کشمیری باشندوں میں ذہنی امراض، منشیات کی لت میں واضح اضافہ

10 ستمبر 2023

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آج کل روزانہ سینکڑوں افراد مختلف نفسیاتی علاج گاہوں کا رخ کرتے ہیں جب کہ دارالحکومت سری نگر کے ہسپتالوں میں علاج کروانے والے منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں بھی واضح اضافہ ہوا ہے۔

https://p.dw.com/p/4Vwzs
کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں واقع ذہنی صحت اور نیورو سائنسز کا انسٹیٹیوٹ
کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں ذہنی امراض کا انسٹیٹیوٹ نفسیاتی امراض کی ایک اہم علاج گاہ ہےتصویر: Rifat Fareed/DW

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی رہائشی آیت حمید شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار رہتی ہیں جن کی وجہ سے ان کے ذہن میں خودکشی کر لینے جیسے خیالات بھی آتے رہتے ہیں۔ آیت کی بگڑتی ہوئی ذہنی حالت کے پیش نظر ڈاکٹروں نے انہیں نفسیاتی امراض کے کسی ہسپتال میں علاج کا مشورہ دیا۔

کشمیری لکچرر کو 'انتقاماً' معطل کیا گیا؟ بھارتی سپریم کورٹ

سری نگر میں قائم نفسیاتی امراض کے ہسپتال میں آیت کا ذہنی معائنہ بھی ہوتا رہا ہے۔ نفسیاتی ماہرین انہیں ذہنی دباؤ سے نجات دلوانے کے لیے مختلف ادویات بھی تجویز کرتے رہے ہیں۔ آیت حمید کہتی ہیں کہ اب انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ خود کشی سے متعلق خیالات کا ذہن میں آنا اور ذہنی دباؤ کا شکار ہونے جیسی نفسیاتی بیماریوں سے نجات کے لیے کسی نہ کسی ماہر نفسیات سے علاج کرانا کتنا ضروری ہوتا ہے۔

سری نگر کے اس ہسپتال کے میڈیکل کے ایک طالب علم کے مطابق ایک ماہ تک علاج کے دوران آیت حمید کا نفسیاتی طور پر دوبارہ صحت مند ہونا صرف 40 فیصد تک ہی ممکن ہو سکا۔

سری نگر میں ہیروئن کے نشے کا عادی ایک کشمیری نوجوان
کشمیری باشندوں میں مختلف منشیات کے استعمال کا رجحان بھی کافی زیادہ ہو چکا ہےتصویر:  Irfan Mehraj, Khalid Khan /DW

کشمیری باشندے ذہنی امراض کا شکار کیوں؟

ماہرین کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عام شہری گزشتہ تین دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے کئی طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔ وہاں جاری مسلح عسکریت پسندی، بھارتی دستوں کی کارروائیاں اور عوام کو ان کا حق خود ارادیت نہ دیا جانا بھی کشمیر کے متنازعہ اور منقسم خطے کے اس حصے کے باشندوں میں نفسیاتی امراض اور مسلسل ذہنی دباؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔

بھارت کشمیری انسانی حقوق کے کارکنوں کو رہا کرے، پاکستان

ریاست جموں کشمیر گزشتہ تین چوتھائی صدی سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستان اور بھارت دونوں حریف ہمسایہ ممالک کے مابین مسلسل وجہ تنازعہ بنی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں اور حالات ہیں کہ اب تک کشیدہ ہی چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی جموں اور کشمیر کے نہ صرف اپنے اپنے زیر قبضہ حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں بلکہ ساتھ ہی اپنے اپنے طور پر پوری کی پوری ریاست جموں کشمیر ہر اپنی اپنی ملکیت کے دعوے بھی کرتے ہیں۔

سری نگر کے مینٹل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ میں علاج کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنے والے مریض
سری نگر کے مینٹل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ میں علاج کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنے والے آوٹ ڈور مریضتصویر: Rifat Fareed/DW

بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے چار برس

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندی کی موجودہ اور بہت خونریز ثابت ہونے والی لہر 1989ء میں شروع ہوئی تھی اور تب سے لے کر اب تک وہاں ہزاروں کی تعداد میں عام شہری، کشمیری عسکریت پسند اور بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس تنازعے میں اتنی زیادہ ہلاکتوں نے ہزارہا خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔

دو نسلیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں

کشمیر میں سالہا سال سے جاری عسکریت پسندی نے اس وادی کے سات ملین کے قریب باشندوں میں سے تقریباﹰ ہر کسی کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر کیا ہے۔ یوں تو اس تنازعے نے کشمیریوں کی کئی نسلو‌ں‍ کو متاثر کیا، لیکن دو نسلیں خاص طور پر متاثر ہوئیں۔

ایک وہ نسل جو 1989ء میں شروع ہونے والی عسکریت پسندی کے وقت جوان تھی اور دوسری وہ جس کا بچپن بعد کے برسوں میں مسلح حملے، قتل و غارت اور بدامنی دیکھتے ہوئے گزرا۔

سری نگر میں کشمیری نوجوانوں اور بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کے مابین ہونے والی ایک جھڑپ، جس میں فوجیوں نے آنسو گیس بھی استعمال کی
بھارت نے کشمیر میں عشروں سے اپنے لاکھوں فوجی تعینات کر رکھے ہیںتصویر: picture alliance/AP Photo/D. Yasin

کشمیر: بھارتی قومی ترانے کا احترام نہ کرنے پر متعدد کشمیریوں کو جیل

امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں بشریاتی علوم کی ایسوسی ایٹ پروفیسر صائبہ ورما کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کئی دہائیوں سے ابتر ہیں اور ان کا بہت زیادہ اثر وہاں کے باشندوں کی نفسیات پر بھی پڑ رہا ہے۔

کشمیر میں ہیروئن کے نشے کی لت کیوں بڑھ رہی ہے؟

صائبہ ورما کہتی ہیں کہ یہ احساس ہونا کہ کوئی انسان محفوظ ہے، لازمی طور پر اس کی نفسیات کو بھی متاثر کرتا ہے۔

تشدد میں حالیہ کمی

حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران بھارت کے زیر انتطام کشمیر میں پرتشدد اور ہلاکت خیز واقعات میں قدرے کمی ہوئی ہے۔ چار برس قبل نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ریاست جموں کشمیر کے نئی دہلی کے زیر انتظام حصے کو بھارتی آئین کے تحت حاصل خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی تھی۔

وادی میں بدامنی میں حالیہ کمی کے باوجود کشمیری عوام کے نفسیاتی مسائل ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔

آج کل تو روزانہ بنیادوں پر سینکڑوں کشمیری باشندے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو کر یا پھر منشیات کی لت میں پڑ جانے کے باعث علاج کے لیے کشمیر بالخصوص سری نگر میں مختلف ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔

سری نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں طبی عملے کی ایک خاتون رکن ایک مریضہ سے بات چیت کرتے ہوئے
کشمیری باشندے مرد ہوں یا خواتین، ان میں ذہنی اور نفسیاتی امراض کی شرح کافی زیادہ ہو چکی ہےتصویر: Getty Images/AFP/R. Conway

پینتالیس فیصد بالغ افراد ذہنی امراض کا شکار

سن 2015 میں جموں یونیورسٹی، سری نگر میں ذہنی امراض کے ایک ادارے اور طبی شعبے کی ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کی جانب سے مشترکہ طور پر کرائے گئے ایک تحقیقی مطالعے کے نتائج کے مطابق تب وہاں تقریباﹰ 1.8 ملین  افراد کسی نہ کسی طرح کی ذہنی بیماری کا شکار تھے۔ تب یہ تعداد کشمیر میں بالغ شہریوں کی مجموعی آبادی کا 45 فیصد بنتی تھی۔

بھارتی کشمیر: فوج پر مسجد میں مسلمانوں سے جے شری رام کے نعرے لگوانے کا الزام

سری نگر میں نفسیاتی امراض کے ہسپتالوں میں آج بھی مریضوں کا خاصا رش دیکھنے میں آتا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ 2000ء میں سری نگر میں قائم دماغی صحت اور نفسیاتی امراض کی علاج گاہوں کی تعداد میں نہ صرف کافی اضافہ کیا گیا تھا بلکہ وہاں طبی ماہرین اور عملے کی مجموعی تعداد بھی بڑھا دی گئی تھی۔

نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں آج کے حالات کی وضاحت کرتے ہوئے صائبہ ورما کہتی ہیں کہ کشمیر کی خراب سیاسی صورت حال، اقتصادی بدحالی، کشمیریوں کی ثقافت کا دبایا جانا اور ان کی مذہبی آزادی کا محدود کر دیا جانا یہ سب کچھ مل کر کشمیریوں کی دماغی صحت اور عمومی نفسیات پر آج بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

ا ش / م م (اے پی)

کشمیریوں کو ہزاروں میل دور کیوں قید کیا جاتا ہے؟