1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’کاغذ کے لیے جنگلات نہیں کاٹیں گے‘

5 فروری 2013

کاغذ تیار کرنے والے ایک بہت بڑے عالمی ادارے ایشیا پلپ اینڈ پیپر (APP) نے اعلان کیا ہے کہ اُس نے ملک کے قدرتی جنگلات کی لکڑی استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ادارے کا ہیڈ کوارٹر انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہے۔

https://p.dw.com/p/17YAZ
تصویر: Getty Images

منگل پانچ فروری کو اس ادارے کے Sustainability یا پائیداری کے شعبے کی منیجنگ ڈائریکٹر آئیڈا گرین بری نے بتایا کہ یکم فروری سے قدرتی جنگلات سے کاٹی گئی لکڑی استعمال نہیں کی جائے گی بلکہ کاغذ وغیرہ بنانے کے لیے صرف اُن جنگلات کی لکڑی استعمال کی جائے گی، جو اسی مقصد کے لیے کاشت کیے گئے ہوں گے۔

اے پی پی گروپ کے چیئرمین تیگو گنڈا وجایا نے کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ پائیداری کو فروغ دینے کے لیے یہ ادارہ اپنے پیداواری طریقوں میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔

انڈونیشیا میں تحفظ ماحول کی علمبردار بین الاقوامی تنظیم گرین پیس کی جانب سے مقامی جنگلات کے بچاؤ کے لیے آویزاں کیا جانے والا ایک بینر
انڈونیشیا میں تحفظ ماحول کی علمبردار بین الاقوامی تنظیم گرین پیس کی جانب سے مقامی جنگلات کے بچاؤ کے لیے آویزاں کیا جانے والا ایک بینرتصویر: picture-alliance/dpa

تحفظ ماحول کے ادارے ایک مدت سے اس کمپنی کو انڈونیشیا کے قدرتی جنگلات کی لوٹ مار کے لیے مورد الزام ٹھہرا رہے تھے۔ اب ماحول دوست حلقوں کا کہنا یہ ہے کہ اگر یہ کمپنی اپنا وعدہ پورا کرے تو یہ جنگلات کے تحفظ کے سلسلے میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔

حال ہی میں خصوصی جانچ پڑتال اور معائنوں سے یہ پتہ چلا تھا کہ بچوں کے لیے شائع کی گئی چند کتابوں میں قدرتی جنگلات کی لکڑی سے تیار کیا گیا کاغذ استعمال کیا گیا تھا، جس کے بعد تحفظ ماحول کے لیے سرگرم رین فارسٹ ایکشن نیٹ ورک (RAN) نے نیوز کارپوریشن کی ایک ڈویژن ہارپر کولنز پر اے پی پی یعنی ایشیا پلپ اینڈ پیپر کے ساتھ کاروبار نہ کرنے کے لیے زور دیا تھا۔

رین فارسٹ ایکشن نیٹ ورک نے اے پی پی کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی محتاط رہنے کا بھی مشورہ دیا ہے اور اس امر کی جانب اشارہ کیا ہے کہ یہ ادارہ ماضی میں بھی کئی بار اپنے وعدوں سے انحراف کر چکا ہے۔

انڈونیشیا میں پام آئل کا ایک فارم، پام آئل کی صنعت بھی جنگلات کی کٹائی کے حوالے سے ماحول دوست تنظیموں کی جانب سے ہدف تنقید بن رہی ہے
انڈونیشیا میں پام آئل کا ایک فارم، پام آئل کی صنعت بھی جنگلات کی کٹائی کے حوالے سے ماحول دوست تنظیموں کی جانب سے ہدف تنقید بن رہی ہےتصویر: picture-alliance/dpa

انڈونیشیا کے قدرتی جنگلات صرف کاغذ تیار کرنے کے لیے ہی نہیں کاٹے جا رہے بلکہ پام آئل کی وسیع تر ہوتی ہوئی صنعت بھی اس کٹائی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ماحول دوست تنظیمیں پام آئل کی صنعت کو نہ صرف جنگلات اور وہاں موجود جنگلی حیات کی تباہی کے لیے قصور وار قرار دے رہی ہیں بلکہ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صنعت کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار بھی تیز تر ہو گئی ہے۔

ماحول کے بچاؤ کی جنگ میں انڈونیشیا کو ایک اہم ملک قرار دیا جاتا ہے اور وہاں جنگلات کی تباہی کو روکنے کے لیے پوری بین الاقوامی برادری دباؤ ڈال رہی ہے۔ اسی دباؤ کے پیش نظر انڈونیشی صدر نے مئی 2011ء میں جنگلات کی کٹائی میں دو سالہ تعطل کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس یادداشت کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

(aa/aba(reuters