1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
صحتافریقہ

ملیریا کی مؤثر ویکسین تیار کر لی گئی

25 اپریل 2021

ملیریا ہر سال لاکھوں افراد بشمول بچوں کی جان لے لیتا ہے۔ سائنسدانوں کی طرف سے تیار کردہ ملیریا کی نئی ویکسین کی افریقہ میں آزمائش کی گئی ہے اور یہ ویکیسن اس موذی مرض کے خلاف کافی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

https://p.dw.com/p/3sW2s
تصویر: picture-alliance/dpa/P. Pleul

مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی بیماری ملیریا نے سال 2019ء کے دوران پوری دنیا میں چار لاکھ سے زائد انسانوں کی جانیں لیں، جن میں سے اکثریت بچوں کی تھی۔ تاہم اب افریقی ملک برکینا فاسو میں نئی تیار شدہ ملیریا ویکسین کی جانچ کی گئی ہے۔ یہ ویکسین اس بیماری کے خلاف کافی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

اس جانچ کے نتائج طبی جریدے 'پری پرنٹس وِد دی لینسیٹ‘ میں شائع ہوئے ہیں جن کے مطابق R21/Matrix-M نامی ویکسین کی ایک برس تک آزمائش کے دوران یہ ملیریا کے خلاف 77 فیصد تک مؤثر رہی۔

یہ اولین ویکیسن ہے جو عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے ملیریا کی ویکسین سے متعلق معیارات پر پورا اترتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے ملیریا ویکسین ٹیکنالوجی روڈ میپ کا ہدف ایسی ویکسین کی تیاری تھی جو کم سے کم 75 فیصد تک مؤثر ہو۔

آزمائشی مرحلہ کیسے تکمیل کو پہنچا؟

اس طبی آزمائشی مرحلے میں پانچ ماہ سے 17 ماہ کی عمر کے درمیان کے 450 بچے شامل تھے۔ ان بچوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے دو گروپوں کو  R21/Matrix-M ویکسین دی گئی جن میں سے ایک کو کم مقدار میں جبکہ دوسرے گروپ کو زیادہ مقدار میں یہ ویکسین لگائی گئی۔ تیسرا کنٹرول گروپ تھا جسے ملیریا کی اس ویکسین کی بجائے کتے کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ریبیز کی ویکسین دی گئی۔

کورونا سے لڑائی میں اینٹی ملیریا دوائیں کتنی مددگار؟

پاکستان میں انسداد ملیریا کی کوششوں میں تیزی کی ضرورت

جس گروپ کو لو ڈوز یا کم مقدار میں ویکسین دی گئی اس میں اس بیماری سے بچاؤ کی شرح 71 فیصد رہی جبکہ کسی قسم کے سائیڈ ایفیکٹس نہیں دیکھے گئے۔

ماہرین اب اس ویکسین کی زیادہ بڑے گروپ پر طبی آزمائش کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس جانچ میں 4800 بچوں کو شامل کیا جائے گا جن کی عمر پانچ سے 36 ماہ کے درمیان ہوں گی جبکہ ان بچوں کا تعلق چار مختلف افریقی ممالک سے ہو گا۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے کیمبرج انسٹیٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر اور ملیریا پر تحقیق میں مصروف جولیان رائنر کے بقول یہ ٹرائل 'انتہائی حوصلہ افزا‘ ہے۔ رائنر افریقہ میں مکمل کیے گئے آمائشی مرحلے کا حصہ نہیں تھے۔

Asiatische Tigermücke
ملیریا جان لیوا بیماری ثابت ہو سکتی ہے اور یہ خاص قسم کے مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔تصویر: US CfDCaP/epa efe/dpa/picture-alliance

رائنر نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''یہ ابتدائی مرحلے کی جانچ ہے مگر اس سے حاصل ہونے والے اعداد وشمار انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ مگر یہ بچوں کی بہت کم تعداد ہے جن پر اس کی آزمائش کی گئی اس لیے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے زیادہ بڑے پیمانے پر اور مختلف جگہوں پر اس کی جانچ کی جائے۔‘‘

بچے،  ملیریا کا سب سے بڑا شکار

ملیریا جان لیوا بیماری ثابت ہو سکتی ہے اور یہ خاص قسم کے مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2019ء کے دوران دنیا بھر میں 229 ملین افراد اس مرض میں مبتلا ہوئے۔ اُس برس جن کی 94 فیصد تعداد کا تعلق محض ایک براعظم یعنی افریقہ سے تھا۔

دنیا بھر میں ملیریا سے ہونے والی کُل اموات میں سے 67 فیصد بچے تھے۔

ا ب ا / ع ح (لوئیزا رائٹ)