1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’مقبولیت کا زعم، عمران خان حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں‘

5 مئی 2023

پاکستان میں پارلیمنٹ اور عدلیہ کے مابین جاری ملکی تاریخ کی ’بدترین محاذ آرائی‘ میں اب بہتری کے اشارے موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حالات میں بہتری ’پس پردہ کوششوں‘ کا نتیجہ ہے۔

https://p.dw.com/p/4QxNx
Supreme Court of Pakistan in Islamabad
تصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

جمعے کے سپریم کورٹ میں ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کروانے کے کیس کی سماعت کے دوران خوشگوار طور پر عدالت کی طرف سے کوئی سخت ریمارکس دیکھنے میں نہیں آئے اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت سیاسی معاملات سیاسی جماعتوں پر چھوڑنا چاہتی ہے۔

 اس موقع پر مسلم لیگ نون کے رہنما سعد رفیق نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات جاری رہے تو انتخابات کی تاریخ پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے قومی اور صوبائی اسمبلیاں قبل از وقت تحلیل کرنے کی پیش کش مثبت سمت میں قدم ہے۔ ان کے مطابق اگر اسمبلیاں توڑنے کی تاریخ پر سمجھوتہ ہو جائے اور انتخابات سے قبل غیر جانب دار نگران حکومتیں بنانے پر اتفاق ہو جائے تو یہ سیاسی بحران کے حل کی طرف اہم اقدامات ہوں گے۔

چیف جسٹس کو طلب کرنے کا مطالبہ زیر بحث

پاکستانی تجزیہ کار نسیم زہرہ نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے مابین جاری کشیدگی بریک ڈاون تک نہیں پہنچے گی بلکہ دونوں طرف سے کبھی سخت اور کبھی محتاط طرز عمل جاری رہے گا اور بالاخر معاملات سلجھاو کی طرف لوٹنا شروع ہو جائیں گے، '' ساری کشیدگی کے باوجود دونوں فریق یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ملک کسی سنگین بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے نہ تو وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہو گی اور نہ ہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو ایگزیکٹو آرڈر سے گھر واپس بھجوایا جا سکتا ہے‘‘۔

 تجزیہ کار امتیاز عالم بھی اپنے ایک ویڈیو بلاگ میں یہ خبر دے چکے ہیں کہ سیاست دان کسی کے اشارے کے بعد ہی ایک میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنے پر راضی ہوئے ہیں۔

یاد رہے  کہ پاکستان میں مبصرین کے مطابق عدلیہ کو اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے کا چیلنج بھی درپیش ہے اور ماضی کی طرح اسے ''طاقتور حلقوں‘‘ کی حمایت بھی میسر نہیں ہے جبکہ عدلیہ کی صفوں میں تقسیم بھی واضح ہے، شاید اسی لئے عدلیہ کی طرف سے کافی محتاط طرز عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جمعے کے روز عدالت کی طرف سے سخت ریمارکس نہ دینا ظاہر کرتا ہے کہ معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا حالات میں بہتری کے اشارے پاکستان اسٹیبلشمنٹ کی پس پردہ کوششوں کا نتیجہ ہیں؟ اس پر نسیم زہرہ نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پس پردہ رابطے ہمیشہ ہی جاری رہتے ہیں اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لئے ملکی بحران کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کے بقول اب عدالت کو متنازعہ فیصلوں پر نظرثانی کرنا ہو گی۔

پاکستانی پارلیمان اور عدلیہ کے مابین رسہ کشی، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

سپریم کورٹ کے سابق صدر اورممتاز قانون دان سینیٹر کامران مرتضی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ عدالت کچھ قدم پیچھے ہٹی ہے اور محاذ آرائی میں کچھ کمی نظر آ رہی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ صورتحال کی بہتری کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بحرانی کیفیت میں بہتری خود بخود نہیں آتی، '' پس پردہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا ہوتا ہے، جو ہمیں نظر نہیں آ رہا ہوتا۔‘‘

پاکستان میں کچھ ماہرین کا خیال تھا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی محاذ آرائی میں فل کورٹ کی تشکیل سے بھی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے  لیکن کامران مرتضی کی رائے ہے کہ فل کورٹ کا وقت اب گزر چکا ہے اور معاملات کہیں اور طے ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابات کب ہوں گے اس کا فیصلہ محض عدلیہ یا ملک کی سیاسی جماعتوں نے نہیں کرنا بلکہ یہ فیصلہ کسی اور جگہ ہونا ہے۔ 

ججوں کے خلاف شکایت، بحران سنگین ہونے کا خدشہ

 چیف جسٹس آف پاکستان کے حق میں سیاسی ریلیاں نکالنے کے پاکستان تحریک انصاف کے فیصلے کے کیا اثرات ہوں گے؟ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا، ''عمران خان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کے زعم میں ملک کے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کو خواہش کے باوجود طاقتور حلقوں میں قبولیت نہیں مل سکی، اس لیے وہ جلسے جلوس اور ریلیاں نکال کر اپنے آپ کو میڈیا میں 'ان‘ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں عدالتی فیصلوں پر تبصرے اور ان پر نظرثانی، نئی قانون سازی اور آئین میں حالات کے مطابق تبدیلیاں ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہیں لیکن پاکستان میں ایسی صورتحال بعض اوقات شدید کشیدگی کا روپ دھار لیتی ہے، جو بہت افسوس ناک ہے۔