1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

صوبائی الیکشن: قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کا فیصلہ رد کر دیا

6 اپریل 2023

پاکستانی قومی اسمبلی نے پنجاب میں نئے صوبائی انتخابات کے انعقاد سے متعلق ملکی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اکثریتی رائے سے مسترد کر دیا ہے۔ یہ بات پاکستانی حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے مابین کشمکش میں ایک نیا موڑ ثابت ہوئی ہے۔

https://p.dw.com/p/4Pmrv
Pakistan National Assembly building in Islamabad
تصویر: imago/Xinhua

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعرات چھ اپریل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق مسلسل اقتصادی، مالیاتی اور سیاسی بحرانوں کے شکار پاکستان میں ابھی منگل کے روز ہی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ پنجاب میں نئے صوبائی انتخابات 14 مئی کے روز کرائے جانا چاہییں۔

پاک افغان سرحد کے قریب جھڑپ میں آٹھ طالبان، ایک فوجی ہلاک

پاکستانی سپریم کورٹ نے اپنا یہ فیصلہ ملکی الیکشن کمیشن کی طرف سے کیے گئے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سنایا تھا، جس کے تحت صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں نئے صوبائی الیکشن کا انعقاد مؤخر کر دیا گیا تھا۔ یہ انتخابات نوے دنوں کے اندر اندر اس لیے لازمی ہو گئے تھے کہ ان دونوں صوبوں میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کی قیادت میں قائم حکومتیں دونوں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کیے جانے کے بعد ختم ہو گئی تھیں۔

اس تناظر میں پاکستانی الیکشن کمیشن نے ابھی کل بدھ پانچ اپریل کے روز ہی اپنے گزشتہ فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے پنجاب میں نئے انتخابات کے لیے ملکی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق چودہ مئی کو ووٹنگ کا نیا شیڈول بھی جاری کر دیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات کے لیے شیڈول جاری کر دیا

Supreme Court of Pakistan in Islamabad
پاکستانی سپریم کورٹ نے ابھی دو روز پہلے ہی یہ حکم دیا تھا کہ صوبہ پنجاب میں نئے الیکشن چودہ مئی کو کرائے جائیںتصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

سیاسی کشمکش میں نیا موڑ

پاکستان میں موجودہ وفاقی حکومت اور ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے مابین کشمکش میں آج جمعرات چھ اپریل کے روز ایک نیا موڑ اس وقت آیا، جب پارلیمانی ایوان زیریں کے طور پر قومی اسمبلی نے ایک ایسی قرارداد اکثریتی رائے سے منظور کر لی، جس میں سپریم کورٹ کے نئے الیکشن سے متعلق فیصلے کو مسترد کر دیا گیا۔

پاکستان کا آئینی و سیاسی بحران: ’بہتری کی کوئی امید نہیں‘

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کی براہ راست نشر کی گئی کارروائی کے دوران اسپیکر نے اعلان کیا کہ ارکان اسمبلی کی اکثریت نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی قیادت میں ایک تین رکنی بینچ کا وہ فیصلہ مسترد کر دیا ہے، جس میں پنجاب میں وسط مئی میں نئے الیکشن کرانے کا حکم سنایا گیا تھا۔

ساتھ ہی اسپیکر کے مطابق ارکان اسمبلی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اسی کیس کی دوبارہ سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل ایک فل بینچ ترتیب دیا جائے۔ ارکان اسمبلی نے اسی قرارداد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ سپریم کورٹ کے اس حکم کو تسلیم نہ کریں۔

سپریم کورٹ فیصلے پر حکومت برہم، پی ٹی آئی کی طرف سے خیرمقدم

Pakistan PM Shahbaz Sharif
ارکان قومی اسمبلی نے اسی قرارداد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ سپریم کورٹ کے اس حکم کو تسلیم نہ کریںتصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

تاخیر کے سبب کی حکومتی وضاحت

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کے دن اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نئے عام انتخابات کرائے جائیں۔ اس کے لیے پنجاب میں الیکشن کے لیے 14 مئی کی تاریخ رکھی گئی تھی جبکہ خیبر پختونخوا میں نئے انتخابات کے انعقاد سے متعلق حتمی فیصلے سے قبل تکنیکی وجوہات کی بنا پر نئے سرے سے درخواست دیے جانے کا حکم سنایا گیا تھا۔

کیا زرداری ’سرپرائز‘ دے سکتے ہیں؟

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اسمبلیاں تحلیل کیے جانے کے باوجود موجودہ وفاقی حکومت دونوں صوبوں میں فوراﹰ نئے انتخابات کے انعقاد سے بچنا چاہتی ہے۔ اس کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے موقف یہ اختیار کیا تھا کہ ملک میں اسی سال بعد میں چونکہ عام انتخابات ہونا ہی ہیں، لہٰذا دونوں صوبوں میں ابھی الیکشن کرانے پر بہت زیادہ مالی وسائل خرچ کرنے کے بجائے ان انتخابات کو مؤخر کر دیا جائے کیونکہ ملک کی موجودہ اقتصادی حالت ان اخراجات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

م م / ع ا (روئٹرز)

سول ۔ ملٹری تعلقات میں توازن ضروری ہے، عمران خان