1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شدید گرمی کی لہر انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے خطرہ

26 جون 2022

گرمیوں کی شدت انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے لیے بھی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ گرمیوں میں جانوروں کو پسینہ آتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو ان کے جسم کا درجہ حرارت کس طرح کم رکھا جا سکتا ہے؟

https://p.dw.com/p/4CxJM
Hunde, Meerschweinchen und Vögel leiden im Sommer unter Hitze
تصویر: Emmi Korhonen/dpa/picture alliance

 

کتے، گنی پگ یا پرندے گرمی کی شدت اور حدت سے بالکل ویسے ہی متاثر ہوتے ہیں جیسے کہ انسان مگر ان جانوروں کو پسینہ نہیں آتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں شدید گرم موسم کے منفی اثرات سے کیسے بچایا جائے۔

جرمن اینیمل ویلفیئر ایسوسی ایشن یا جانوروں کی بہبود کے ادارے کی طرف سے گرمیوں میں پالتو جانوروں کی مناسب دیکھ بھال کے چند بنیادی اصول وضع کیے گئے ہیں۔ اس ادارے سے منسلک ماہرین کا مشورہ ہے کہ چلچلاتی دھوپ سے پالتو جانوروں کو بچانا بہت ضروری ہے۔ پالتو جانوروں کے مالکان کے لیے اس ادارے کی طرف سے مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی گئی ہیں:

بہت زیادہ مائع

انسانوں کے برعکس کتے، گنی پگ، بلیاں، ہیمسٹر اور اسی طرح کے چند دیگر پالتو جانوروں کو پیسنہ نہیں آتا اس لیے وہ اپنے جسم کو انسانوں کی طرح پسینے سے ٹھنڈا نہیں کر سکتے۔ اس لیے انہیں اپنے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور گرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت زیادہ پانی پینا چاہیے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پالتو جانوروں کے جسمانی درجہ حرارت میں جان لیوا اضافے سے بچانے کے لیے انہیں کافی مائع فراہم کیا جانا چاہیے۔

جرمنی سمیت مغربی یورپ میں گرمی کی غیر معمولی لہر، ریکارڈ درجہ حرارت

Hunde, Meerschweinchen und Vögel leiden im Sommer unter Hitze
چھوٹے سے چھوٹا جانور بھی گرمی کی شدت سے خود کو بچانا جانتا ہےتصویر: Andrea Warnecke/dpa/picture alliance

سورج کی تپش سے بچاؤ

خرگوش، گنی پگ اور گھروں میں بطور پالتو جانور رکھے جانے والے پرندے جن کے پنجرے یا دیواریں تیز دھوپ کی زد میں آتی ہیں ان کی کیفیت گرمی کا شکار ہونے والے عام انسانوں کی سی ہوتی ہے۔ پالتو جانوروں کو ہمیشہ کسی سایہ دار جگہ پر ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ دن کے دوران سورج کی پوزیشن تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

سایہ دار چھوٹے گھر، ٹھنڈے پتھر کے سلیب یا دیوار کے اوپر گیلے تولیے بھی مددگار ہیں۔

 کتوں کو زیادہ چھوٹا پٹہ یا کالر نہیں لگانا چاہیے کیونکہ بغیر بالوں والی جگہوں پر دھوپ تیز لگتی ہی اور ان کی جلد جل سکتی ہے۔

ہیٹ اسٹروک کی علامات

اگر سایہ، تازہ ہوا اور پینے کے پانی کی کمی ہو تو جانوروں کے جسم کا درجہ حرارت بڑھتا چلا جاتا ہے، جس سے ہیٹ سٹروک ہو سکتا ہے۔ چوہوں اور خرگوشوں میں، مثال کے طور پر، 25 سے 28 ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت ان کی بے ہوشی حتیٰ کہ موت تک کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان: موسمياتی تبديليوں کے باعث سیلابی ریلوں میں اضافہ

Hunde, Meerschweinchen und Vögel leiden im Sommer unter Hitze
پالتو کتوں کو دھوپ سے بچائیںتصویر: Spencer Platt/AFP/Getty Images

شیشے جیسی والی آنکھیں، گہری سرخ زبان اور کھنچی ہوئی گردن اس بات کی علامتیں ہیں کہ کتا گرمی سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ قے، جسمانی توازن کھونا اور بیہوشی کی سی کیفیت ہیٹ اسٹروک کی نشاندہی کرتی ہے۔ بلیوں میں، یہ بے چینی، دل کی دھڑکن میں اضافہ، درجہ حرارت میں اضافے یا اس ان کے ہانپنے سے بھانپا جا سکتا ہے۔ اگر یہ علامات ہیں تو جلد از جلد اپنے پالتو جانور کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔

کروس وینٹیلیشن سے پرہیز

پالتو جانوروں کو زیادہ گرمی میں زیادہ تازہ ہوا کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان کے پنجروں کو ایسی جگہ نہ رکھیں جہاں کروس وینیٹیلیشن ہو۔ جو چیز گرم درجہ حرارت کو انسانوں کے لیے زیادہ قابل برداشت بناتی ہے وہ جانوروں میں سنگین بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔

چہل قدمی

 بہت زیادہ گرمی اور بڑھے ہوئے درجہ حرارت میں صبح و شام کے ٹھنڈے اوقات میں اور اگر ممکن ہو تو سایہ دار پارک یا جنگل والے علاقوں میں اپنے پالتو جانوروں کو چہل قدمی کروائیں۔ یہی اصول گھوڑوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

Hunde, Meerschweinchen und Vögel leiden im Sommer unter Hitze
پرندے بہت نازک ہوتے ہیں انہیں گرمی کی لہر سے بچانا بہت ضروری ہوتا ہےتصویر: Andrea Warnecke/dpa/picture alliance

گاڑی میں مت چھوڑیں

جانوروں کو گاڑی میں مالک کے بغیر اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ گاڑی کے اندر ایک خاص درجہ حرارت کچھ دیر میں خطرناک تپش پیدا کر دیتا ہے۔ گاڑی تندور میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جانوروں کو آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ متلی اور دوران خون کی خرابی تک کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور بدترین صورت میں ایک اذیت ناک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت ٹھنڈا کرنے کے لیے چھت کھولنے یا کھڑکی کھولنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا حتیٰ کہ گاڑی سائے میں بھی کھڑی ہو۔ اکثر ابر آلود یا گہرے بادلوں کے ساتھ بھی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک۔

ک م/ ع ت ) اے ایف پی(