1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

خواتین کےحقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری، اقوام متحدہ

8 مارچ 2023

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جنگوں اور تنازعات میں سب سے پہلے خواتین ہی متاثر ہوتی ہیں لیکن سفارتی مذاکرات میں ان کی نمائندگی انتہائی کم ہوتی ہے۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا۔

https://p.dw.com/p/4ONT6
Pakistan Internationaler Frauentag in Pakistan
تصویر: Rahmat Gul/ASSOCIATED PRESS/picture alliance

خواتین کے عالمی دن، آٹھ مارچ، کے موقع پر اقوام متحدہ کی خواتین کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باہوس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دنیا بھر میں خواتین کی زندگیوں، صحت اور حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کریں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خواتین، امن اور سلامتی کے موضوع پر مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے سیما باہوس نے کہا،"ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے نہ تو امن مذاکرات کی میزوں پر بیٹھنے والوں میں کوئی خاص تبدیلی کی ہے اور نہ ہی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف مظالم کرنے والوں کو ملنے والے استشنٰی میں کوئی تبدیلی کی ہے۔"

باہوس نے افغانستان میں "صنفی تفریق" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے خواتین کو عوامی زندگی سے نکال دیا گیا ہے، خواتین کو یونیورسٹیوں، پارکوں میں جانے پر پابندی لگادی گئی ہے اور انہیں بہت سی ملازمتوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، "افغانستان خواتین کے حقوق کو محدود کردینے کی انتہائی مثالوں میں سے ایک ہے، لیکن ایسا کرنے والا یہی واحد ملک نہیں ہے۔"

افغانستان میں یونیورسٹی کی پابندی کے خلاف خواتین کا احتجاج

باہوس کا کہنا تھا کہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں ملک چھوڑنے کے لیے مجبور ہونے والے  80 لاکھ یوکرینی باشندوں میں 90 فیصد خواتین اور ان کے بچے ہیں۔ جب کہ یوکرین کے اندر بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد تقریباً 70 فیصد ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ صنفی مساوات کے دور ہوتے ہدف کو حاصل کرنے میں مزید تین صدیاں لگیں گی
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ صنفی مساوات کے دور ہوتے ہدف کو حاصل کرنے میں مزید تین صدیاں لگیں گیتصویر: JUNI KRISWANTO/AFP/Getty Images

خواتین کی شمولیت واحد حل

اقوام متحدہ کی خواتین کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ "اس عمل میں خواتین کی شمولیت کے ساتھ، امن ہی واحد حل ہے۔"

انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ سن 2000 میں منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تاریخی قرارداد کے مطابق کام کریں، جس میں تنازعات کو روکنے اور حل کرنے میں خواتین کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

خواتین کا عالمی دن: لاہور میں حکام نے مارچ پر پابندی لگا دی

امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے بھی اسی جذبے کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا، "میں دنیا بھر میں خواتین اور لڑکیوں پر ہونے والے تشدد اور جبر کی طرف توجہ مبذول کراؤں گی اور جس کا انہیں ایران، افغانستان، روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں اور دنیا بھر میں بہت سے دیگر جگہوں پر سامنا ہے۔"

'صنفی مساوات میں اب بھی تین صدیاں لگیں گی'

قبل ازیں مباحثے کا افتتاح کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے خبردار کیا ہے کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے عالمی پیش رفت "ہماری آنکھوں کے سامنے غائب ہوتی جارہی ہے" اور صنفی مساوات کے دور ہوتے ہدف کو حاصل کرنے میں مزید تین صدیاں لگیں گی۔

انہوں نے کہا کہ "دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کا استحصال کیا جارہا ہے، یہ خطرے سے دوچار ہیں اور ان کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ کئی دہائیوں میں حاصل کی گئی ترقی ہماری آنکھوں کے سامنے غائب ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے خاص طور پر طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں  سنگین حالات پر روشنی ڈالی، جہاں "خواتین اور لڑکیوں کو عوامی زندگی سے غائب کردیا گیا ہے۔"

افغانستان میں لڑکیوں کے اسکول دوبارہ بند ہونا بڑا دھچکا، اقوام متحدہ

 اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے دیگر ممالک کا نام خاص طور پر نہیں لیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ "بہت سی جگہوں پر خواتین کے جنسی اور تولیدی حقوق واپس لیے جا رہے ہیں اور کچھ ممالک میں، اسکول جانے والی لڑکیوں کو اغوا اور حملوں کا سامنا کرنے کا خطرہ ہے۔"

انٹونیو گوٹریش کا کہنا تھا کہ صدیوں کے پدر شاہی نظام، امتیازی سلوک اور نقصان دہ دقیانوسی تصورات نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایک بہت بڑا صنفی فرق پیدا کردیا ہے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کس طرح ان شعبوں میں نوبل انعام حاصل کرنے والوں میں خواتین کی تعداد محض تین فیصد ہے۔

انہوں نے حکومتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے سے دنیا بھر میں 'اجتماعی کوشش' کا مطالبہ کیا تاکہ صنفی فرق ختم کرنے والی تعلیم فراہم کی جائے، مہارت کی تربیت کو بہتر بنایا جائے اور'ڈیجیٹل صنفی تقسیم کو ختم کرنے' میں مزید سرمایہ کاری کی جائے۔

عورت مارچ کے حامی پاکستانی مرد

 ج ا/ ص ز (اے ایف پی، اے پی)