1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’حجاب کو نظر انداز کیا تو تمہارے والد جنت ميں نہيں جائيں گے‘

18 مارچ 2021

ہيومن رائٹس واچ نے اپنی ايک تازہ رپورٹ ميں انکشاف کيا ہے کہ انڈونيشيا ميں نوجوان لڑکيوں اور خواتين کو حجاب پہننے پر مجبور کيا جا رہا ہے۔ کيا بہتر مسلمان بننے کے ليے حجاب کا استعمال لازمی ہے؟

https://p.dw.com/p/3qnd4
Frauen Gesichtsschleier Verschleierung Tudung Indonesien
تصویر: Getty Images/AFP/S.Khan

ايفا حنيفہ مسباک کی عمر انيس برس تھی، جب ان کے والد کا انتقال ہو گيا۔ وہ ياد کرتی ہيں کہ اس موقع پر ان کے اہل خانہ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ ان کے والد اس ليے جنت میں نہيں جا سکيں گے کيونکہ وہ حجاب نہيں کرتيں۔ آج مسباک مغربی جاوا کے شہر بنڈونگ ميں سائيکالوجسٹ کے طور پر کام کرتی ہيں۔ وہ ايسی درجنوں انڈونيشی لڑکيوں کی نفسیاتی مشاورت کر چکی ہيں، جنہيں صرف حجاب نہ پہننے کی وجہ سے اسکولوں اور ديگر مقامات پر ہراسگی کا سامنا رہا۔

مسباک کے مطابق، ''مذہبی بنيادوں پر دباؤ، بالخصوص کم عمری ميں حجاب پہننے کے ليے نفسیاتی دباؤ، دم گھٹنے جيسے احساس کی وجہ بنتا ہے۔‘‘ انہوں نے يہ بات ہيومن رائٹس واچ کو بتائی، جو انسانی حقوق کے ليے فعال اس ادارے کی ایک تازہ رپورٹ کے مسودے ميں بھی شامل ہے۔ یہ پينتاليس سالہ نفسياتی ماہر ايسے تجربات سے گزرنے والی واحد انڈونیشی خاتون نہيں ہیں۔ ايچ آر ڈبليو کی رپورٹ ميں ایسی کئی خواتين کے تجربات کی تفصيل شامل ہے۔ چند ايک واقعات ميں تو بچيوں کا حجاب نہ پہننا ان کے اسکولوں سے اخراج کی وجہ بھی بنا۔

کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

جرمن اسکولوں کی کم عمر طالبات کے ہیڈ اسکارف پر پابندی کا مطالبہ

ایران، حجاب اتار پھینکنا مزاحمت کا نشان؟

انڈونيشی معاشرے ميں مذہبی تنوع دکھائی ديتا ہے۔ وہاں مسيحی، ہندو اور بدھ مذہبی برادرياں آباد ہيں۔ مگر گزشتہ دو دہائيوں ميں عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے اور اسلام کے علاوہ ديگر عقائد کے پیروکاروں کے ليے سماجی سطح پر آزادی آہستہ آہستہ محدود ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

انڈونیشیا میں حجاب کا مقامی کاروبار

'حجاب کے ليے زبردستی، بنيادی حقوق کی خلاف ورزی ہے‘

ہيومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ ميں انڈونيشی ريسرچر آندرياس ہارسانو کے حوالے سے لکھا ہے کہ انڈونيشيا ميں لڑکيوں پر حجاب پہننے کے ليے بہت زيادہ اور مسلسل دباؤ رہتا ہے۔ اس ادارے کے مطابق يہ آزادی مذہب، آزادی اظہار رائے اور پرائيويسی کے بنيادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

اس ادارے نے اپنی رپورٹ ميں واضح کيا ہے کہ حجاب پہننا یا نا پہننا کسی کے لیے بھی لازم نہيں کيا جانا چاہيے بلکہ اس معاملے ميں خواتين کی مرضی ضروری ہونا چاہيے۔ ہارسانو نے کہا، ''انڈونيشيا ميں يہ خيال عام ہوتا جا رہا ہے کہ جو مسلم خواتين حجاب استعمال نہيں کرتيں، وہ کم مذہبی ہيں يا اخلاقی سطح پر کمتر ہيں۔‘‘

ہيومن رائٹس واچ نے سن 2001 سے لے کر اب تک خواتين کے لباس سے متعلق ساٹھ ايسے ضوابط کی شناخت کی ہے، جنہيں يہ ادارہ 'امتيازی‘ ضابطے قرار ديتا ہے۔ سن 2014 ميں منظور کردہ ايک قانون کے تحت اسکولوں ميں تمام مسلم لڑکيوں کے لیے حجاب کرنا لازمی ہے۔ اس رپورٹ ميں مزيد کہا گيا ہے، ''انڈونيشيا ميں سرکاری اسکول لڑکيوں کو حجاب پہننے پر مجبور کرنے کے ليے نفسياتی دباؤ، عوامی سطح پر بے عزتی اور سزاؤں جيسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہيں۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس سلسلے ميں انڈونيشيا کی وزارت تعليم کا موقف جاننے کے لیے اس وزارت سے رابطہ کيا، مگر اس کا اسے آخری خبریں آنے تک کوئی جواب موصول نہيں ہوا تھا۔

ع س / م م (روئٹرز)