1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

حجاب تنازع: بھارتی سپریم کورٹ کے ججوں کی رائے مختلف

جاوید اختر، نئی دہلی
13 اکتوبر 2022

حجاب پر پابندی کے حوالے سے سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ کے ججوں نے جمعرات 13 اکتوبر کو یکسر مختلف رائے کا اظہار کیا۔ اس معاملے پر اب بھارت کے چیف جسٹس کی صدارت میں بڑی بنچ میں سماعت ہوگی۔

https://p.dw.com/p/4I7Nl
Indien Oberster Gerichtshof Neu-Delhi
تصویر: Nasir Kachroo/NurPhoto/picture alliance

بھارتی صوبے کرناٹک کی حکومت کی جانب سے ریاست کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی  کے معاملے پر آج 13اکتوبر کو بھارتی سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی اور دونوں ججوں نے الگ الگ فیصلے سنائے۔

بنچ نے کہا کہ ان کے درمیان "رائے میں اختلاف" ہے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے تین ججوں کی ایک بنچ تشکیل دینے کی سفارش کی جو حجاب پر پابندی برقرار رکھنے یا اسے ختم کرنے پر غور کرے گی۔ جسٹس ہیمنت گپتا نے حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے کرناٹک ہائی کورٹ  کے 15مارچ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیلوں کو مسترد کردیا جب کہ جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہا کہ حجاب پہننا اپنی مرضی کا معاملہ ہے۔

حجاب کا تنازع بھارت میں ایک بڑ اتنازع بن چکا ہے
حجاب کا تنازع بھارت میں ایک بڑ اتنازع بن چکا ہےتصویر: Rupak De Chowdhuri/REUTERS

حجاب پر پابندی کے حق میں دلائل

جسٹس گپتا کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس تنازع کے حوالے سے کئی سوالات قائم کیے تھے۔ ان میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ کیا کالج انتظامیہ طلبہ کے لیے یونیفارم کا فیصلہ کرسکتی ہے اور کیا حجاب پہننے پر پابندی بھارتی آئین کی دفعہ 25 کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کی یہ دفعہ کسی بھی بھارتی شہری کو مذہبی آزادی کا حق دیتی ہے۔

بھارت: حجاب کے بعد اب 'دستار' کا تنازع

جسٹس گپتا کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سوال پر بھی غور کیا کہ آیا حجاب پہننا اظہار رائے کے بنیادی حق میں شامل ہے اور کیا اس کے خلاف کوئی حکم شہریوں کو آئین کے تحت حاصل وقار کی ضمانت کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

جسٹس گپتا کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اس سوال پر بھی غور کیا کہ کیا حجاب پہننا لازمی مذہبی عمل ہے اور کیا کوئی طالبہ حجاب کو اپنے حق کے طور پر اسکول میں استعمال کرسکتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہ کیا حجاب پہننے والوں کو اسکول میں داخل نہیں ہونے دینا تعلیم کے حق سے محروم رکھنے کے متراف ہے۔

بھارت میں حجاب تنازعہ: اب عالمی رخ اختیار کرتا ہوا

جسٹس ہیمنت گپتا کا کہنا تھا کہ ان تمام سوالوں کے جواب عرضی گزاروں کے خلاف جاتے ہیں اس لیے انہوں نے حجاب پر پابندی کے کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو خارج کر دیا۔

 فی الحال کرناٹک میں اسکولوں میں حجاب پر پابندی برقرار رہے گی
فی الحال کرناٹک میں اسکولوں میں حجاب پر پابندی برقرار رہے گیتصویر: Anushree Fadnavis/REUTERS

حجاب کے حق میں دلائل

جسٹس دھولیا کا کہنا تھا کہ ان کا خیال جسٹس گپتا سے یکسر مختلف ہے اور وہ مختلف وجوہات اور دلائل کی بنا پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے اور کرناٹک حکومت کے حکم کو منسوخ کرتے ہیں۔ اس فیصلے او رحکم میں کالج انتظامیہ کمیٹی کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ طلبہ کے لیے یونیفارم کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

جسٹس دھولیا کا کہنا تھا کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے تنازع کی بنیاد پر غور نہیں کیا یہ دراصل بنیادی طور پر اپنی پسند کا معاملہ ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ماضی کے کئی کیسز میں اس کی نظیر موجود ہے۔

بھارت: تنازعہ حجاب کشمیر تک پہنچ گیا، فوج نے ٹیچرز کو حجاب نہ کرنے کا حکم دیا

انہوں نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ کرتے وقت ان کے ذہن میں سب سے اہم بات بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے تھی۔ انہوں نے کہا،"یہ سب کو معلوم ہے کہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں لڑکیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا کتنا مشکل ہے انہیں پہلے سے ہی بہت ساری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے  اس لیے ہمیں ان کی زندگی کو بہتر بنانے پر غور کرنا چاہئے۔"

کرناٹک کی مسکان اور ایران کی مھسا میں فرق تلاش کریں

خیال رہے کہ حجاب کا تنازع بھارت میں ایک بڑ اتنازع بن چکا ہے۔ شدت پسند ہندو تنظیمیں اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں جب کہ مسلمانوں کے ایک بڑے حلقے کا کہنا ہے کہ یہ ان کی مذہبی شناخت  کو ختم کرنے کی ایک اور منصوبہ بند کوشش ہے۔

او آئی سی کا بھارت میں مسلمانوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ

سپریم کورٹ کے دونوں ججوں کی مختلف آراء کی وجہ سے فی الحال کرناٹک میں اسکولوں میں حجاب پر پابندی برقرار رہے گی۔

بھارت میں حجاب تنازعہ عالمی توجہ کا باعث بن گیا