1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے امریکہ ٹھوس ضمانت دے، ایران

1 ستمبر 2022

تہران کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ سے "ٹھوس ضمانت" کا مطالبہ کیا ہے، دوسری طرف یورپی یونین کا خیال ہے کہ جوہری معاہدہ اگلے چند دنوں میں ہوجائے گا۔ تاہم اسرائیل اس مجوزہ معاہدے کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/4GI4F
تہران کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے امریکہ ٹھوس ضمانت دے
تہران کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے امریکہ ٹھوس ضمانت دےتصویر: Vahid Salemi/AP/picture alliance

ایران کے وزیر خارجہ حسین عبداللہیان نے بدھ کے روز کہا کہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں اہم ترین جوہری معاہدے کے بحالی کے لیے ان کا ملک امریکہ سے ٹھوس ضمانت چاہتا ہے۔

انہوں نے روس کے دورے کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، "ایران یورپی یونین کی طرف سے تیار کردہ معاہدے کے مسودے کا باریکی سے جائزہ لے رہا ہے... اگر ہم ایک پائیدار معاہدہ چاہتے ہیں تو دیگر فریقوں کو بھی ٹھوس ضمانت دینے کی ضرورت ہے۔"

’ایران کی جوہری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے‘

ایران جوہری بم بنا سکتا ہے، لیکن فی الحال اس پر فیصلہ نہیں کیا، ایرانی اعلیٰ رہنما

خیال رہے کہ سن 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتیں جرمنی، چین، فرانس، برطانیہ، امریکہ اور روس کے مابین جوہری معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران اپنے اوپر عائد پابندیوں میں نرمی دینے کے بدلے میں اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے پر رضامند ہوگیا تھا۔ لیکن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2018 میں یک طرفہ طور پر امریکہ کو اس سے الگ کر لیا جس کے بعد یہ معاہدہ ختم ہوگیا۔

یورپی یونین، جو اس معاہدے کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ویانا میں بالواسطہ مہینوں کی بات چیت کے بعد، اگست کے اوائل میں معاہدے کا حتمی مسودہ پیش کیا تھا۔ اس کے بعد سے ایران اور امریکہ دونوں ہی اس میں کئی تبدیلیوں کی تجاویز پیش کرچکے ہیں۔

امیر عبداللہیان نے کہا کہ تہران واشنگٹن کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے گوکہ یہ واضح نہیں کیا کہ "ٹھوس ضمانتوں" سے ان کی کیا مراد ہے تاہم واشنگٹن کے ساتھ طویل مذاکرات کے دوران تہران نے مطالبہ کیا تھا کہ امریکہ اس بات کی ضمانت دے کہ مستقبل میں کوئی بھی امریکی صدر معاہدے کو اس طرح یک طرفہ طور پر منسوخ نہیں کرے گا جیسا کہ ٹرمپ نے کیا تھا۔

وائٹ ہاوس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ وہ ایران کی طرف سے باضابطہ جواب کے منتظر ہیں اور امریکہ نے امیر عبداللہیان کا کوئی بیان نہیں دیکھا ہے۔

کربی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، "اس لیے میں نہیں جانتا کہ وہ کس طرح کی ضمانتوں کی بات کر رہے ہیں۔ گوکہ ہم محتاط کے ساتھ پرامید ہیں... ہم حقیقت پسند بھی ہیں اور کھلی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ کچھ دوریاں ابھی باقی ہیں۔"

ایرانی جوہری معاہدہ: ملکی عوام کتنے پر امید ہیں؟

یورپی یونین کے سربراہ معاہدہ کے حوالے سے پرامید

تازہ ترین سفارتی چپقلش کے باوجود یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیف بوریل کا کہنا ہے کہ انہیں یورپی یونین کی طرف سے پیش کردہ معاہدے کے مسودے پر ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے "مناسب" جوابات موصول ہوئے ہیں۔

بوریل نے پراگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی ایک غیر رسمی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،"مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہماری رفتار کم نہیں ہونے والی ہے اور آئندہ چند دنوں میں جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے حتمی معاہدہ ایران جوہری مذاکرات ختم، یورپی یونین کا 'حتمی مسودہ' زیرغورطے پا جائے گا۔"

ایران جوہری مذاکرات ختم، یورپی یونین کا 'حتمی مسودہ' زیرغور

یورپی یونین کے پیش کردہ معاہدے کے مسودے میں ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے اور امریکی پابندیاں ختم کرنے کے لیے راستہ ہموار کرنے نیز ایران کے پٹرولیم مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت دینے کی باتیں کہی گئی ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیل کے وزیراعظم یائرلیپیڈ
امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیل کے وزیراعظم یائرلیپیڈ تصویر: Evelyn Hockstein/REUTERS

 جوہری معاہدے پر بائیڈن کی یائرلاپیڈ سے بات چیت

امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز اسرائیل کے وزیراعظم یائرلیپیڈ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور ان سے ایران سے مجوزہ جوہری معاہدے پر پیش رفت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

لیپیڈ نے پہلے کہا تھا کہ وہ بنیادی طور پر ایران کے ساتھ معاہدے کے خلاف نہیں ہیں تاہم اب ان کا خیال ہے موجودہ معاہدہ "خراب" ہے۔

اسرائیل ایک ایسے معاہدے پر زور دے رہا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام کی سخت نگرانی کی گنجائش ہو اور اس کے میزائل پروگرام کو محدود کر دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل ایران کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

ایران نے جوہری سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے دستاویزات چرائیں، اسرائیل

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ "دونوں لیڈروں نے جوہری معاہدے پر مذاکرات اور ایران کی جوہری ہتھیارکے حصول کی جانب پیش رفت روکنے کے مشترکہ عزم کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔"

ج ا/ ص ز(روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے)