1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتعالمی

جنگوں اور جنگی تیاریوں کا ماحولیاتی تباہی میں کردار

عبدالستار، اسلام آباد
8 جنوری 2023

جنگوں، جنگی تیاریوں اور ہتھیاروں کے تجربات سے ماحول کو پہنچنے والے نقصانات پر آج تک بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ جنگوں میں زیادہ اہمیت انسانی جانوں کے ضیاع کو دی جاتی ہے اور ماحولیاتی تباہی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

https://p.dw.com/p/4LYGk
Ukraine Krieg | Angriff auf Kiew
تصویر: UKRAINIAN PRESIDENTIAL OFFICE/REUTERS

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی طرف سے یوکرین پر حملے کے بعد نہ صرف براعظم یورپ پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں بلکہ یوکرین میں جاری تصادم  کی وجہ سے دنیا بھر میں امن پسندوں کو یہ فکر بھی لاحق ہوگئی ہے کہ کہیں جوہری جنگ کا عفریت اپنے  جبڑے کھولے انسانی لہو سے غرارے کرنے کے لیے بے تاب نہ  ہو جائے۔

Ukraine Krieg | Feuergefechte in der Ostukraine
گزشتہ فروری میں شروع ہونے والی یوکرینی جنگ میں دس ماہ کے دوران دونوں جانب سے گولہ بارود کا بے تحاشہ استعمال کیا جا چکا ہےتصویر: Sameer al-Doumy/AFP/Getty Images

انہیں خوف ہے کہ یوکرین اور یورپ کے سر پر منڈلا تے جنگی بربریت کے یہ سائےکہیں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں۔ ایک طرف اس ممکنہ جنگ سے انسانی جانوں کو پہنچنے والے نقصانات کے تخمینے لگائے جا رہے ہیں اور دوسری جانب  دنیا  بھر میں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے کام کرنے والے  کارکنان اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ یہ جنگ قدرتی ماحول کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔

امن پسندوں کا یہ بھی شکوہ ہے کہ جنگ سے ہونے والے انسانی جانوں کے نقصانات پر تحقیق کی جاتی ہے۔ اس سے انفراسٹرکچر کی  تباہی پر بھی بات کی جاتی ہے لیکن بہت کم تحقیقی مقالے اور کتابیں اس بات کا تفصیل سے ذکر کرتی ہیں کہ کس طرح  جنگی تیاریاں، جنگی مشقیں، ہتھیاروں کے تجربات اور دفاعی اخراجات ماحولیات کا جنازہ نکالتے ہیں۔

’ہر شخص کو جنگ کے بارے میں کیا جاننا چاہیے‘

کرس ہیجیز کی مشہور تصنیف ''’ہر شخص کو جنگ کے بارے میں کیا جاننا چاہیے‘‘ شاید ان چند ایک کتابوں میں شامل ہے، جو ماحولیاتی نقصان پر تفصیل سے بات کرتی ہیں لیکن اس کتاب کا محور بھی انسانی ہلاکتیں اور دوسرے عناصر ہیں۔

مثال کے طور پر مذکورہ بالا کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباﹰ ساڑھے تین ہزار سالوں پر محیط معلوم   انسانی تاریخ میں ابن آدم نے صرف 248 سال حالت امن میں گزارے ہیں، جو ریکارڈ ڈ ہسٹری کا صرف آٹھ فیصد بنتا ہے۔

 اس کتاب کا یہ دعویٰ ہے کہ صرف بیسویں صدی میں ایک سو آٹھ ملین افراد جنگوں میں ہلاک ہوئے، جو کہ ناقدین کے مطابق ایک محتاط اندازہ ہے کیونکہ یہ تعداد اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہو سکتی ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں جنگوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ پندرہ ملین سے لے کر ایک ارب تک کا ہے۔

 واضح رہے کہ یہ اعدادوشمار 2003ء تک کے ہیں۔ اس کے بعد بھی دنیا میں بہت سارے مسلح تصادم ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ کئی ملک خانہ جنگی کا شکار بھی ہوئے اور ان پر بیرونی حملے بھی کیے گئے۔ 2003ءکے بعد بھی ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ سے زائد افراد جنگ، مسلح تصادم اور خانہ جنگی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

Ukraine Krieg | Zerstörung in Yampil
جنگوں میں صرف انسانی جانوں کے نقصان پر ہی توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے جب کہ ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان پر بہت کم بات کی جاتی ہےتصویر: REUTERS

ہیجز کی اس تصنیف میں  جنگ کی ہولناکیاں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ جنگ سے کس طرح ماحول اور ماحولیات کو نقصان پہنچتا ہے کیونکہ ہمیں زندگی گذارنے کے لئے ہوا سے لے کر پانی اور پانی سے لے کر تمام دوسرے قدرتی وسائل درکار ہوتے ہیں، جو قدرتی ماحول کا ایک حصہ ہیں۔

ناقدین کا خیال ہے کہ ہمیں اکثر یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اگر ایک پلاسٹک کا ڈبہ فلاں جگہ پر رکھ دیا جائے تو اس کا ماحولیات پر کیا اثر ہوتا ہے یا کوئی کچرے کا ڈبہ کسی سمندری حدود میں پھینک دیا جائے تو وہ ماحول کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔ یعنی وہ عمل جو شاید ماحول کو اتنی بری طرح متاثر نہیں کرتے ہیں، ان کا تذکرہ تو ہوتا ہے لیکن جنگ، دفاعی اخراجات، جنگ کی تیاریاں، حربی مشقیں اور ہتھیاروں کے تجربات کس طرح ماحولیات کو ایک ناقابل تلافی تباہی کا شکار کر تے ہیں، اس پر بہت کم بولا اور لکھا جاتا ہے۔

تیل اور ہتھیاروں کی تجارت

 شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ہتھیاروں اور تیل کی خریدوفروخت میں ملوث لابیا ں بہت مضبوط ہیں اور ان دونوں لابیوں کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے۔ مثال کے طور پر دنیا کی افواج کو اگر مختلف ادارہ جاتی اکائیوں میں سے ایک اکائی سمجھا جائے تو شاید یہ واحد اکائی  ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ تیل استعمال کرتی ہے اور جس کے جلنے اور جلانے سے ماحولیات پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔

بالکل اسی طرح پینٹاگون بحیثیت ایک ادارے کے  دنیا کا وہ واحد ادارہ ہے، جو شاید سب سے زیادہ تیل استعمال کرتا ہے۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ چند جنگی طیاروں میں جتنا ایندھن استعمال ہوتا ہے وہ شاید روڈ پر چلنے والی سینکڑوں بسوں یا ممکنہ طور پر ہزاروں بسوں سے بھی زیادہ ہو۔

کیوں کہ دنیا بھر کی مسلح افواج اور ان کے اضافی تربیت یافتہ دستے عالمی افرادی قوت کا ایک اچھا خاصا حصہ ہیں، اس لیے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے اور ماحول کو خراب کرنے میں ان کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔

Washington Pentagon Luftaufnahme
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی عمارت کا ایک فضائی منظرتصویر: Liu Jie/Photoshot/picture alliance

 یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں مسلح افواج کی تعداد دو کروڑ دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح کیونکہ یہ افواج کھربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں اس لیے اس بات کا بھی امکان ہے کہ اس خرچ سے ماحولیات پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔

مثال کے طور پر کر س ہیجز کی مذکورہ  بالا کتاب میں کیے گئے ایک دعوے کے مطابق امریکہ نے 1975ء سے لے ک 2003 تک اپنے اپنی قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا  اوسطاﹰ تقریبا تین سے چھ فیصد حصہ قومی دفاع پر لگایا ہے، جو وفاقی بجٹ کا سالانہ 15 سے 30 فیصد حصہ بنتا ہے۔

اکیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں یہ بجٹ تقریباﹰ 350 بلین ڈالر سالانہ تھا۔ جب کہ تعلیم کے لیے سالانہ 60 بلین ڈالرز اور ریاستی و بین الاقوامی معاونت کے لیے صرف 15 بلین ڈالر مختص تھے۔ انیس سو چالیس سے لے کر انیس سو چھیانوے تک امریکہ نے فوج پر 16.3 ٹریلین ڈالر خرچ کیے، جس میں سے پانچ ٹریلین ڈالر سے زیادہ جوہری ہتھیاروں پر خرچ کیے گئے تھے۔ 

اتنے وسیع پیمانے پر اخراجات سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ماحولیات پر کیا اثرات مرتب کیے ہوں گے۔ یہ خرچہ اس کے علاوہ ہے جو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں کیا گیا۔ براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ ان جنگوں میں پانچ ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ کچھ اور اندازوں کے مطابق یہ خرچہ آٹھ ٹریلین ڈالر کا ہے۔

لہذا اس سیریز میں ہم کوشش کریں گے کہ یہ بتایا جا سکے کہ جنگی تیاریاں، جنگی مشقیں، ہتھیاروں کے تجربات، دفاعی بجٹ اور خانہ جنگی کس طرح ماحولیات کو متاثر کر رہی ہے۔

 

روسی صدر پوٹن نے سنائپر گن سے شوٹنگ کی