1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
ماحول

جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں

13 جولائی 2022

آئندہ چند روز کے دوران جرمنی میں درجہ حرارت ایک بار پھر 30 ڈگری سے اوپر چلا جائے گا۔ جرمنی کے ساتھ ساتھ جنوبی یورپ کے متعدد ممالک بھی ان دنوں شدید گرمی کی لہر کا شکار ہیں اور انہیں گونا گوں مسائل کا سامنا ہے۔

https://p.dw.com/p/4E3z5
Spanien erste Hitzewelle des jahres
تصویر: Susana Vera/REUTERS

 

ایشیا، خاص طور سے جنوبی ایشیا کے خطے میں بسنے والے باشندوں کے لیے تیس ڈگری سینٹی گریڈ قدرے بہتر موسم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان علاقوں میں ایک تو گرمیاں سال کا زیادہ تر حصہ اپنا رنگ جمائے رہتی ہیں اور سرما کا موسم چند ماہ تک ہی جاری رہتا ہے۔ اس کے برعکس زیادہ تر یورپی ممالک میں جاڑوں کے دنوں میں بہت زیادہ سردی یہاں تک کہ درجہ حرارت کئی کئی ہفتے نقطہ انجماد سے بھی نیچے رہتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب دنیا کے دیگر علاقوں کی طرح اب یورپ میں بھی گرمیوں کا موسم اپنی غیر معمولی حدت اور شدت کے ساتھ روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہونے لگا ہے۔

جنوبی یورپ میں گرمی کی شدت

یورپ کے جنوبی علاقے میں گزشتہ کئی ہفتوں سے شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔ درجہ حرارت کے غیر معمولی حد تک زیادہ رہنے جانے کے سبب کئی جنوبی یورپی باشندے شدید مسائل کا شکار ہیں۔ اسپین اور پرتگال میں رواں ہفتے جھلسا دینے والی گرمی رہی۔ چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت کئی دن لگ تک جاری رہنے کی وجہ سے عوام کو بہت سی مشکلات کا سامنا رہا۔ ادھر فرانس کے محکمہ موسمیات 'میٹیو فرانس‘ کے مطابق آج بدھ تیرہ جولائی کو درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ جرمنی میں بھی رواں ہفتے منگل سے ہی درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گیا تھا اور آج بدھ کو خاص طور سے ملک کے جنوب مغرب میں درجہ حرارت کافی زیادہ ہو جانے کی پیش گوئی کی گئی  ہے۔ جرمنی کے جنوب مغرب میں بدھ کو درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہے گا جبکہ آئندہ دنوں میں تقریباً پورے جرمنی میں درجہ حرارت 25 تا 31 ڈگری کے ساتھ گرمی میں شدت کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

Spanien erste Hitzewelle des jahres
اسپین میں ریکارڈ درجہ حرارت تصویر: Marcelo del Pozo/REUTERS

ساحلی علاقے

یورپ بھر میں گرمی کی لہر ہے تاہم ساحلی علاقوں کو استثنیٰ حاصل ہے۔ ساحل کے قریبی علاقوں میں درجہ حرارت 21 تا 25 ڈگری رہتا ہے جو کہ خوشگوار موسم کا سبب بنتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں خاص طور سے دوپہر کے وقت تیز ہوا چلتی ہے۔ جرمنی میں چند مقامات پر بارش کے امکانات ہیں لیکن بادلوں کے باوجود زیادہ تر علاقے خشک رہنے کی توقع ہے اور آنے والے دنوں میں گرمی کی لہر جاری رہے گی۔

ہیٹ ایکشن پلان کی تجویز

وفاقی جرمن وزیر ماحولیات اشٹیفی لیمکے نے گرمی کی لہر اور خشک موسم کے منفی اثرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گرین پارٹی کی سیاستدان لیمکے کا کہنا ہے کہ مسلسل 35 تا 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت فطرت اور انسانوں دونوں  کے لیے خطرناک ہے۔ فُنکے میڈیا گروپ کو ایک بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ''مزید شہروں اور آبادیوں کو اپنے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہییں اور اس سلسلے میں انہیں ایک ہیٹ ایکشن پلان ترتیب دینا چاہیے۔‘‘

Hitzewelle Sommer 2018 | Deutschland, Düsseldorf
جرمنی کے اکثر دریا ، ندی یا نہریں خشک پڑی ہیںتصویر: Reuters/W. Rattay

ادھر جرمن ہسپتالوں کے انتظامی اداروں کی ملکی تنظیم (DKG) کے سربراہ گیرالڈ گاس نے بھی گرمی کی لہر کے سبب ہسپتالوں پر اضافی بوجھ اور عملے پر دباؤ بڑھ جانے کے امکانات کے خلاف خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''اگر آئندہ دنوں میں واقعی گرمی کی شدت اور درجہ حرارات میں اتنا اضافہ ہوتا رہا جس کی پیش گوئی ماہرین موسمیات کر رہے ہیں، تو شدید گرمی کے سبب پیدا ہونے والی بیماریاں اور طبی پیچیدگیاں بڑھیں گی، جن کے باعث سامنے آنے والے مسائل کا ہمیں پہلے سے سدباب کرنا چاہیے۔‘‘

ماہرین ماحولیات نے گرمی کی لہر اور بارشوں کی کمی کے سبب خشک سالی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی زیادہ درجہ حرارت، طویل خشک سالی اور تیز ہوائیں، یہ سب مل کر جنگلاتی آگ کے واقعات کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔ جرمن فائر بریگیڈ ایسوسی ایشن نے بھی تنبیہ کی ہے کہ اس طرح آتش زدگی کے واقعات کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

ک م / م م (ڈی پی اے)