1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن امید کی کرن ہے، کرسٹوفیروٹی

29 ستمبر 2022

اطالوی خلاباز کرسٹوفوریٹی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی کمان سنبھالنے والی پہلی یورپی خاتون بن گئی ہیں۔ کرسٹوفوریٹی نے مشکل وقت میں پرامن بین الاقوامی تعاون کی ایک مثال کے طور پر آئی ایس ایس کی اہمیت کی بھی نشاندہی کی۔

https://p.dw.com/p/4HX9u
Samantha Cristoforetti
تصویر: NASA/ZUMA/picture alliance

سمانتھاکرسٹوفیروٹی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کی کمان سنبھالنے والی پہلی خاتون یورپی خلا باز بن گئی ہیں۔  انہوں نے بدھ 28 ستمبر کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران اولیگ آرتیمیوو سے آئی ایس ایس کی کمان سنبھالی۔ کرسٹوفیروٹی آئی ایس ایس کی کمان سنبھالنے والی پانچویں یورپی خلاباز ہیں۔ اس تقریب کے ساتھ ہی آرتیمیوو کی قیادت میں ایکسپیڈیشن 67 بھی اپنے اختتام کو پہنچی۔

خلا میں بھی روس اور امریکہ کی راہیں جدا

 سمانتھاکرسٹوفیروٹی کا کہنا تھا، ''میں کمانڈر کے عہدے پر اپنی تقرری کے لیے ممنون ہوں اور میں مدار میں ایک بہت ہی قابل ٹیم کی قیادت کرنے کے لیے خلا اور زمین پر حاصل کردہ تجربے سے مستفید ہونےکی منتظر ہوں۔‘‘ کرسٹوفیروٹی نے آئی ایس ایس کی کمان ایک ایسے وقت سنبھالی ہے، جس میں روس اور یوکرین کے مابین جاری تنازعے، ایندھن اور خوراک کے بحران کی وجہ سے دنیا میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ خلا میں تاہم روسی خلاباز یورپی یونین اور امریکی خلابازوں کے شانہ بشانہ کام کرتے ہیں۔

USA, Florida | Hurrikan Ian
سمانتھا فیروٹی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی کمان کرنے والی پہلی یورپی خاتون ہیںتصویر: NASA/AP/picture alliance

امن کا پیغام

اپریل میں مشن 67 کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں کرسٹوفیروٹی نے اس بات پر زور دیا  تھا کہ زمین پر تنازعہ کا اس بات پر کوئی اثر نہیں پڑا کہ  سب ممالک کے خلا بازوں نے زمین سے 400 کلومیٹر  دور خلا میں مل کر کیسے کام کیا۔ بعد ازاں مئی میں ان کا کہنا تھا، ''اس سے مجھے ہر ایک کو یہ یقین دلانے کا موقع ملتا ہے کہ خلائی اسٹیشن پر موجودہ عملہ واقعی اچھی طرح سے کام کر رہا ہے، اور وہ نہ صرف کام کے ساتھی بلکہ اچھے دوست بھی ہیں۔ اور میں اپنے عملے کے لیے بھی اسی طرح کی توقع کرتی ہوں۔‘‘ کرسٹوفیروٹی کا مزید کہنا تھا، ''جیسا کہ میں نے کئی بار کہا ہےکہ جب آپ کے سامنے پورا کرنے کے لیے ایک مشن ہو تو آپ کو اس بات پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی کہ آپ میں کیا مشترک ہے، نہ کہ ان چیزوں پر جو آپ کو تقسیم کرتی ہیں۔‘‘

انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سن 2030 میں ختم کر دیا جائے گا

اطالوی خلاباز نے مشکل وقت میں پرامن بین الاقوامی تعاون کی ایک مثال کے طور پر آئی ایس ایس کی اہمیت کی بھی نشاندہی کی۔ کرسٹوفیروٹی نے کہا، ''یہ امید کی ایک کرن ہے، یہ امن کی ایک کرن ہے، یہ بین الاقوامی افہام و تفہیم کی ایک روشنی ہے۔ یہ شروع سے ہی ایسا ہی ہے، اور مجھے لگتا ہے کہ یہ آج بھی ایسا ہی ہے۔‘‘

NASA Die neue Crew für die ISS-Station
ایکسپیڈیشن 68 میں شامل ناسا کے فرینک روبیو، اور روسکوسموس کے خلاباز سرگئی پروکوپیف اور دمتری پیٹلن تصویر: Dmitri Lovetsky/ASSOCIATED PRESS/picture alliance

 ایکسپیڈیشن  67 سے 68 تک

ایکسپیڈیشن  67  'منروا مشن‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ کرسٹوفیروٹی کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر دوسرا دورہ تھا۔ وہ اپریل سے آئی ایس ایس پر سوار ہیں اور اکتوبر میں زمین پر واپس آنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ان تاریخوں میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ ایکسپیڈیشن 68 کے عملے کے نصف افراد 21 ستمبر کو قزاقستان سےخلائی اسٹیشن سے خلا کی طرف روانہ ہوئے تھے، جس میں ناسا کے فرینک روبیو، اور روسکوسموس کے خلاباز سرگئی پروکوپیف اور دمتری پیٹلن سوار تھے۔

علیحدہ خلائی اسٹیشن کی تعمیر، چین نے تاریخی قدم اٹھا لیا

آئی ایس ایس کمانڈر کی حیثیت سے اپنے نئے کردار میں ، کرسٹوفیروٹی آئی ایس ایس پر ہونے والے کام اور عملے کی  ذمہ دار ہوں گی۔ وہ فلائٹ ڈائریکٹر اور زمین پر فلائٹ کنٹرولرزکی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کریں گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ آپریشن آسانی سے اور محفوظ طریقے سے چلیں۔

Astronautin Samantha Cristoforetti als Barbie Puppe
فیروٹی کی بطور خاتون خلا بز کامیابیون کے لیے ان کی شبیہہ والی باربی ڈول بھی تیار کی گئ ہےتصویر: Romy Harink/ESA/REUTERS

سائنسی تحقیقاتی کام

کرسٹوفیروٹی گزشتہ 6 ماہ میں سائنسی تحقیق اور انجینئرنگ کے کاموں میں مصروف رہی ہیں۔ مکینیکل انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری کی حامل کرکرسٹوفیروٹی، ایرو اسپیس پروپلشن اور ہلکے پھلکے ڈھانچے میں مہارت کے ساتھ، ایک یورپی Robotic Arm کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ یہ روبوٹک بازو پانچ ملی میٹر تک کی درستگی کے ساتھ آٹھ ہزار کلو گرام  تک کے اجزاء کو سنبھال سکتا ہے اور اسے خلائی اسٹیشن کے اندر اور باہر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کرسٹوفیروٹی انتہائی جدید نوعیت کی بائیومیڈیکل تحقیق بھی کر چکی ہیں۔ اس میں 'آرہیلتھ‘ نامی وہ نظام بھی شامل ہے، جو خلا میں طویل عرصے تک رہنے والے خلابازوں کو متاثر کرنے والی حیاتیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لے سکتا ہے۔ ان تبدیلیوں میں انسانی جسم میں خون کے لوتھڑے  بننے اور تابکاری کے اثرات کا پتہ چلانا شامل ہے۔ مئی 2022ء میں کرسٹوفیروٹی اس آلے کی جانچ کرنے والی پہلی فرد تھیں۔  2014 ء میں اپنے پہلے مشن کے دوران کرسٹوفیروٹی خلا میں ایسپریسو کافی تیار کر کہ مشہور ہونے والی پہلی خلاباز بن گئیں۔ وہ اس مرتبہ اپنے ساتھ زیتون کا تیل خلا میں لے کر گئیں۔ اس کا مقصد بقول کرسٹوفیروٹی کے کچھ یہ تجربہ کرنا تھا کہ خلا میں تیل کا معیار کس طرح تبدیل ہوتا ہے اور کچھ اس لیے بھی کہ خلا میں  انہیں  ''گھر جیسا ذائقہ‘‘ بھی مل سکے۔

کارلا بلیکر (ش ر ⁄ ع آ)

کیا وجہ ہے کہ اسپیس اسٹیشن زمین پر نہیں گرتے؟