1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

بھارتی کشمیر: پاکستان نے تحریک حریت پر پابندی کی مذمت کی

2 جنوری 2024

بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ایک اور جماعت 'تحریک حریت' پر بھی پابندی لگا دی ہے، جس کی قیادت مرحوم سید علی گیلانی کیا کرتے تھے۔ اسلام آباد نے اس اقدام کو کشمیری عوام کو محکوم بنانے کی بھارتی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/4ambZ
بھارتی کشمیر
اسلام آباد میں دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے یہ اقدامات جمہوری اصولوں، بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیںتصویر: Rouf Bhat/AFP/Getty Images

پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی معروف علیحدگی پسند تنظیم 'تحریک حریت جموں و کشمیر' (ٹی ای ایچ) پر پابندی کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ''کشمیریوں کو محکوم'' بنانے کی بھارتی کوششوں کا ہی ایک حصہ ہے۔

بھارت: مسلم لیگ (جموں و کشمیر) پر پابندی عائد کر دی گئی

 بھارت نے اتوار کے روز اس حریت پسند کشمیری تنظیم پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پانچ برس کے لیے پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے چند روز قبل ہی نئی دہلی نے علیحدگی پسند رہنما مسرت عالم بھٹ کی قیادت والی مسلم لیگ (جموں و کشمیر) پر پابندی عائد کر دی تھی۔

کشمیر: بھارتی فوج کی حراست میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم

 پاکستان کا رد عمل

پاکستان کے دفتر خارجہ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ ''سیاسی جماعتوں پر پابندی کشمیری عوام کو محکوم بنانے، اختلاف رائے کو دبانے اور غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنی گرفت کو مزید مستحکم کرنے بھارت کی مسلسل کوششوں کا ہی ایک حصہ ہے۔''

'لداخ پر بھارتی دعویٰ ناقابل تسلیم، یہ ہمارا حصہ ہے'، چین

اس نے کہا، '' بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی طور پر کالعدم قرار دی گئی تمام سیاسی جماعتوں سے پابندی ہٹانی چاہیے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور ان کی آزادیوں کا احترام کرنا چاہیے۔''

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے حوالے سے عوام میں بے چینی

پاکستان نے بھارت سے تمام سیاسی قیدیوں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو رہا کرنے اور جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کو کہا۔

مرحوم سید علی شاہ گیلانی
'تحریک حریت' تنظیم میں کشمیر کے بہت سے علیحدگی پسند گروپ شامل تھے، جو کشمیر کی آزادی کے لیے مہم چلاتی رہی ہے اور اس گروپ کی قیادت انتقال سے قبل تک علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کرتے رہے تھےتصویر: Getty Images/AFP/S. Hussain

بھارت نے پابندی کے لیے کیا جواز پیش کیا؟

بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی معروف سیاسی تنظیم 'تحریک حریت' پر بھارت مخالف پروپیگنڈا پھیلانے کے الزام میں پابندی کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ تنظیم کشمیر میں ''اسلامی قوانین نافذ کرنا چاہتی'' ہے۔ 

بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ: عسکریت پسندی بڑھنے کا خدشہ

فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ یہ گروپ جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی کو ہوا دینے کے لیے ''بھارت مخالف پروپیگنڈہ پھیلانے کے ساتھ ہی دہشت گردی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے پائی گئی'' ہے۔

وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ ''تنظیم جموں و کشمیر کو بھارت سے الگ کرنے اور اسلامی حکومت قائم کرنے کی ممنوعہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ یہ گروپ جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی کو ہوا دینے کے لیے بھارت مخالف پروپیگنڈہ پھیلانے میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔''

واضح رہے کہ  'تحریک حریت' تنظیم میں کشمیر کے بہت سے علیحدگی پسند گروپ شامل تھے، جو کشمیر کی آزادی کے لیے مہم چلاتی رہی ہے اور اس گروپ کی قیادت انتقال سے قبل تک علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کرتے رہے تھے۔

ان کے انتقال کے بعد اس کی قیادت علیحدگی پسند رہنما مسرت عالم بھٹ نے سنبھالی تھی، جو دس برس سے بھی زیادہ عرصے سے جیل میں قید ہیں۔ نئی دہلی نے 27 دسمبر کے روز مسرت عالم بھٹ کی ایک سیاسی جماعت ' مسلم لیگ جموں و کشمیر' پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

کشمیر کی خصوصی دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد سے مودی حکومت نے اب تک متعدد سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کردی ہے اور  سینکڑوں کارکن جیلوں میں ہیں۔

ص ز/ ج ا (نیوز ایجنسیاں)

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں میڈیا کی ابتر صورتحال کیوں؟