1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت: مسلم طالبات نے حجاب پہن کر امتحان دینے کی اجازت مانگی

صلاح الدین زین
22 فروری 2023

بھارتی ریاست کرناٹک میں ثانوی درجے کے امتحانات نو مارچ سے شروع ہونے کی توقع ہے اور مسلم طالبات نے عدالت عظمی سے استدعا کی ہے کہ وہ حجاب میں امتحان دینے کی 'محدود ریلیف چاہتی ہیں۔'

https://p.dw.com/p/4NomP
Proteste gegen Hidschab-Verbot an Schulen in Indien
تصویر: Rupak De Chowdhuri/REUTERS

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والی مسلم طالبات کے ایک گروپ نے 22 فروری بدھ کے روز سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور حجاب پہن کر امتحان میں بیٹھنے کی اجازت مانگتے ہوئے اپنی درخواست پر فوری سماعت کی درخواست کی۔

بھارت: تنازعہ حجاب کشمیر تک پہنچ گیا، فوج نے ٹیچرز کو حجاب نہ کرنے کا حکم دیا

بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چور نے درخواست گزار طالبات کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے اور جلد ہی ایک بنچ تشکیل دینے کی بات بھی کی ہے۔ اس ریاست میں پری یونیورسٹی امتحانات جلد ہی ہونے والے ہیں، اس لیے اس مقدمے کی جلد سماعت متوقع ہے۔

کیا یورپی یونین کے رکن ملکوں میں حجاب پر پابندی ہے؟

 واضح رہے کہ ریاست کرناٹک میں سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت ہے۔ ریاستی حکومت  نے سرکاری تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ حکومت کے اس قدم کے بعد بہت سی مسلم طالبات سرکاری اسکولوں کو ترک کر کے پرائیویٹ کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

بھارت میں حجاب سے متعلق عدالتی فیصلہ، مسلمانوں کی احتجاجی ہڑتال

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ثانوی درجے کے تمام فائنل امتحانات سرکاری کالجوں میں ہی منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں حجاب پر پابندی عائد ہے۔ اس پس منظر میں درخواست گزاروں نے عبوری طور پر عدالت سے ریلیف مہیا کرنے کی استدعا کی ہے۔

بھارت: عدالت نے بھی مسلم طالبات کے حجاب پر پابندی کو درست قرار دے دیا

عدالت میں کیا ہوا؟

سائلین کے وکیل شادان فراست نے بدھ کے روز چیف جسٹس کے سامنے اپنے دلائل میں کہا کہ ریاست میں امتحانات نو مارچ سے شروع ہوں گے اور اگر مسلم طالبات کو امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی تو ان کا ایک سال ضائع ہو جائے گا۔

بھارت میں حجاب تنازعہ: اب عالمی رخ اختیار کرتا ہوا

Indien Udupi | Musilimische Studentinnen
ریاست کرناٹک میں سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت ہے۔ ریاستی حکومت  نے سرکاری تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر رکھی ہےتصویر: Aijaz Rahi/AP Photo/picture alliance

اس پر چیف جسٹس چند چور نے پوچھا،  "انہیں امتحان دینے سے کون روک رہا ہے۔" وکیل نے جواباً کہا کہ "لڑکیوں کو اپنے سر پر اسکارف پہن کر امتحان دینے کی اجازت نہیں ہے اور یہ طالبات بھی اس کے بغیر امتحان دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہم ان کے لیے صرف محدود ریلیف چاہتے ہیں۔"

حجاب پر سپریم کورٹ کا متضاد فیصلہ

کرناٹک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، جس پر گزشتہ برس اکتوبر میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اختلافی فیصلہ سنایا تھا۔

دورکنی بینچ میں شامل ایک جج نے ریاستی حکومت کے فیصلے کی یہ کہہ کر توثیق کی تھی کہ ریاستی حکومت اسکولوں میں یونیفارم نافذ کرنے کی مجاز ہے جبکہ دوسرے جج نے حجاب کو اپنی پسند کا معاملہ قرار دیا اور کہا کہ ریاست کو کسی کی ذاتی پسند کے معاملے میں اس طرح سے مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

عدالت عظمی نے اسی اختلافی فیصلے کے تناظر میں اس کیس کی سماعت کے لیے ایک تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی بات کی ہے تاکہ کوئی حتمی فیصلہ سامنے آ سکے۔

 اس سے پہلے کرناٹک ہائی کورٹ نے گزشتہ برس مارچ میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ اسلام میں مسلم خواتین کے لیے حجاب پہننا لازمی نہیں ہے اور کرناٹک حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ماتحت اسکولوں میں سب کے لیے یکساں یونیفارم کا اصول نافذ کر سکے۔

بھارت میں حجاب کا تنازعہ

بھارت میں حجاب پہننے سے متعلق تنازعے کی ابتدا ریاست کرناٹک سے ہوئی تھی تاہم بعد میں یہ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے اقتدار والی متعدد ریاستوں تک پھیل گیا۔ اس معاملے پر اس قدر ہنگامہ آرائی ہوئی کہ امریکہ سمیت کئی ممالک نے مسلم طالبات کے حق میں بیان جاری کیا تھا۔

گزشتہ برس حجاب کی مخالفت میں جس طرح کی ہنگامہ آرائی اور پر تشدد مظاہرے ہوئے اور ایک با حجاب طالبہ کا جس طرح سے محاصرہ کیا گیا تھا،  اس کی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم نوبل انعام یافتہ کارکن ملالہ یوسف زئی نے بھی مذمت کی تھی۔

انہوں نے بھارت کی مسلم طالبات کی تعلیم کی حمایت کرتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا،’’لڑکیوں کو ان کے حجاب میں اسکول جانے کی اجازت دینے سے انکار کرنا خوفناک  ہے۔ کم یا زیادہ کپڑے پہننے کی وجہ سے خواتین پر اعتراض کا چلن اب بھی برقرار ہے۔ بھارتی رہنماؤں کو چاہیے کہ مسلم خواتین کو پس پشت ڈالنا بند کر دیں۔‘‘

بھارت میں حجاب تنازعہ عالمی توجہ کا باعث بن گیا