1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اٹلی حادثہ: پاکستانیوں کی ہلاکت پر شہباز شریف کا اظہار تشویش

27 فروری 2023

اٹلی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعے میں اموات کی تعداد 61 ہو گئی ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کی ممکنہ ہلاکت کی رپورٹس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/4O1nt
Italien | Bootsunglück mit vielen Toten
اتوار کی صبح تارکین وطن سے بھری ایک کشتی کلابریا میں واقع سٹیکیٹو دی کوترو نامی ساحلی ریزورٹ کے قریب سمندری چٹان سے ٹکرا کر ڈوب گئی تھی۔تصویر: Giuseppe Pipita/ZUMA/ANSA/IMAGO

اٹلی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعے میں اموات کی تعداد 61 ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں پاکستانیوں کی ممکنہ ہلاکت کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ اسلام آباد حکومت کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف فکرمند

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ہلاک ہونے والوں میں پاکستانی مہاجرین کے شامل ہونے کی رپورٹس پر گہری تشویش اور فکر کا اظہار کرتے ہوئے پیر کے روز ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ انہوں نے وزارت خارجہ کے لیے جلد از جلد حقائق کا پتہ لگانے اور قوم کو اعتماد میں لینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

وزیر اعظم کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد وزارت خارجہ کا ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہنا تھا، "ہم اٹلی کے ساحل پر ڈوبنے والی کشتی میں پاکستانیوں کی ممکنہ موجودگی سے متعلق رپورٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔"

اس بیان مزید کہا گیا کہ اطالوی دارالحکومت روم میں پاکستان کا سفارت خانہ اطالوی حکام سے حقائق جاننے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی ایک ٹوئیٹ میں اس پیش رفت کی تصدیق کی اور حادثے پر دکھ و رنج کا اظہار کیا۔

اموات کی تعداد میں اضافہ

 

گزشتہ روز اٹلی کے علاقے کلابریا کے مشرقی ساحل پر تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے کے واقعے میں اموات کی تعداد 61 ہو گئی ہے۔ اطلاع ہے کہ مرنے والوں میں دو درجن سے زائد پاکستانی بھی شامل ہیں۔

یہ تارکین وطن بہتر مستقبل کے خواب لیے یورپ چلے تھے

تارکین وطن سے بھری اس کشتی میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، ایران اور دیگر ممالک کے شہری بھی سوار تھے، جو ترکی سے یورپ کا سفر کر رہے تھے۔ اتوار کی صبح یہ کشتی کلابریا میں واقع سٹیکیٹو دی کوترو نامی ساحلی ریزورٹ کے قریب سمندری چٹان سے ٹکرا کر ڈوب گئی تھی۔ اس حادثے میں ابتدائی طور پر 59 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔

پیر کو ایک اطالوی سرکاری اہلکار مانوئیلا کررا نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حادثے میں ہونے والی اموات کی تعداد اب بڑھ کہ 61 ہو گئی ہے اور لاپتہ افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے  جبکہ اب تک 80 افراد کو زندہ بچایا جا چکا ہے۔

بحیرہ روم میں سال کا بدترین المیہ: ڈیڑھ سو مہاجرین ڈوب گئے

ان کا کہنا تھا کہ حادثے میں زندہ بچ جانے والوں کے بیانات کی بنیاد پر حکام کا ماننا ہے کہ اس بڑی کشتی میں 180 سے 200 کے قریب افراد سوار تھے۔اس سے قبل حکام نے بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں 12 بچے بھی شامل ہیں۔

تارکین وطن کی اسمگلنگ کا الزام، ایک شخص گرفتار

فلاحی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ وہ حادثے میں ہلاک کئی افراد کے رشتہ داروں کی معاونت کر رہی ہے۔

اس تنظیم سے منسلک سرجیئو دی داتو کا اس حوالے سے کہنا تھا، "ہمارے پاس ایسے بچوں کے کیسز ہیں جو یتیم ہو گئے ہیں، جیسا کہ ایک 12 سالہ افغان بچہ جس نے اپنا پورا خاندان کھو دیا ہے۔" انہوں نے مزید بتایا کہ اس بچے والدین اور چار بھائی بہن، خاندان کے دیگر تمام نو افراد اس حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

غیر قانونی مہاجرت: ایک پاکستانی نوجوان کا جان لیوا سفر

حادثے میں زندہ بچ جانے والوں میں سے حکام نے ایک شخص کو اتوار کے روز تارکین وطن کی اسمگلنگ کے الزام کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں گارڈیا دی فنانزا کی کسٹمز پولیس نے بتایا کہ وہ دو مزید افراد کو اس ممکنہ اسمگلنگ میں معاونت فراہم کرنے کے شبے پر گرفتار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

م ا / ع ا(روئٹرز)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں