1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

انڈو پیسیفیک خطے کا حال یوکرین جیسا نہیں ہونے دیں گے، کواڈ

4 مارچ 2022

بھارت، امریکہ،آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل گروپ "کواڈ" کے سربراہوں نے تائیوان کے حوالے سے ایک ہنگامی میٹنگ کی۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے ویسا انڈوپیسیفیک خطے میں ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

https://p.dw.com/p/4807k
USA | Indopazifik-Gipfel in Washington
تصویر: Sarahbeth Maney/Pool/Getty Images

اس وقت جب کہ دنیا اور بالخصوص مغرب کی نگاہیں روس اور یوکرین میں جاری جنگ پر مرکوز ہیں، تائیوان کے حوالے سے چین کے رویے پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ چین خود مختار جزیرے تائیوان پر اپنا دعویٰ کرتا ہے اور یوکرائن پر روسی حملے کے بعد اس نے اپنی الرٹ کی سطح میں اضافہ کردیا ہے۔

کواڈ گروپ کی جمعرات کو میٹنگ اسی پس منظر میں ہوئی کہ کہیں چین صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تائیوان کے حوالے سے کوئی غیر معمولی قدم نہ اٹھالے۔ جمعرات کے روز ہونے والی اس ورچوئل میٹنگ میں امریکی صدر جو بائیڈن، جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا، آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حصہ لیا۔

جاپانی وزیر اعظم نے یوکرین میں روسی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "ہم اس بات پر متفق تھے کہ اس طرح کی کسی طاقت کا استعمال کرکے انڈوپیسیفیک میں صورت حال کو یکطرفہ طورپر تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔"

کیشیدا کا اشارہ چین کا تائیوان پر حملے کے خدشے کی جانب تھا۔ تائیوان خود کو ایک آزاد جمہوری ملک مانتا ہے جبکہ چین اسے اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔

کیشیدا کا کہنا تھا کہ کواڈ کے رہنما اس بات پر بھی متفق تھے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پیدا شدہ حالات کے مدنظر ایک آزاد اور کھلے انڈوپیسیفیک خطے کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرنا اور بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

اشارہ چین کی جانب

چاروں ملکوں کے رہنماؤں نے گوکہ اپنے بیانات میں چین کا نام نہیں لیا تاہم ان سب کا اشارہ چین کی طرف ہی تھا۔

آسٹریلوی وزیر اعظم موریسن نے میٹنگ کے بعد ایک بیان میں کہا،"یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے انڈوپیسیفیک خطے میں ہم ویسا ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ایک آزاد اور کھلا خطہ برقرار رکھنے کے لیے پرعز م ہیں،جہاں چھوٹی طاقتوں کو بڑی طاقتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہ ہو۔"

رواں ماہ  میلبورن میں کواڈ ملکوں کے وزرائے خارجہ کی سالانہ میٹنگ ہوئی تھی۔ چند ماہ بعد ان ملکوں کے سربراہوں کی جاپان میں میٹنگ ہونے والی ہے ایسے میں جمعرات کی میٹنگ کا اچانک اعلان کیا گیا۔ میٹنگ کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ خطے کے تمام ملکوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ہونا چاہیے تاکہ وہ فوجی، اقتصادی اور سیاسی دباؤ سے آزا د رہیں۔

تائیوان نے میٹنگ کا خیرمقدم کیا

واشنگٹن میں تائیوان کے نمائندے کے دفتر سے جاری بیان میں کواڈ رہنماؤں کی میٹنگ کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے، "تائیوان خطے کے تمام امن پسند شراکت داروں کے ساتھ استحکام اور ترقی کی سمت میں کام کرتا رہے گا۔"

امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ اس میٹنگ میں کواڈ رہنماؤں نے "انڈوپیسیفیک سمیت پوری دنیا میں" خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تئیں اپنے عہد کا اعادہ کیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ کواڈ انڈوپیسیفیک خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے اپنے اصل ہدف پر توجہ مرکوز رکھے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ میٹنگ میں یوکرین کی صورت حال بشمول اس کے دنیا پر مضمرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مودی نے "مذاکرات اور سفارت کاری کی راہ پر واپس لوٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔"

کواڈ ملکوں میں بھارت واحد ملک ہے جس نے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت نہیں کی ہے بلکہ اقو ام متحدہ میں روس کے خلاف پیش کردہ قرارداد پرووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہا۔

ج ا/ ع ت (روئٹرز، اے پی)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں