1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان پر امریکی سفیر طلب

افسر اعوان روئٹرز کے ساتھ
15 اکتوبر 2022

پاکستان نے امریکی صدر جو بائیڈن کے پاکستان کے بارے میں بیان پر امریکی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ امریکی صدر نے جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کو دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک ممالک میں سے ایک قرار دیا تھا۔

https://p.dw.com/p/4IElt
امریکی صدر جو بائیڈنتصویر: picture alliance / Consolidated News Photos

پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے آج ہفتہ 15 اکتوبر کو بتایا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے پاکستانی جوہری ہتھیاروں کے تناظر میں پاکستان کے بارے میں بیان پر پاکستانی میں تعینات امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کا بیان ان کے لیے حیرت کا باعث بنا اور یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کی کمی کسی غلط فہمی کا سبب بنی ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق ان کا نہیں خیال امریکی سفیر کو طلب کرنے سے پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات پر کوئی منفی اثر پڑے گا۔

جو بائیڈن نے کہا کیا؟

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات 13 اکتوبر کو اپنی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی کانگریشنل کمپیئن کمیٹی کے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا تھا کہ 'پاکستان شاید دنیا کے خطرناک ممالک میں سے ایک ہے کیونکہ اس کے جوہری ہتھیار غیر منظم ہیں‘۔

امریکی صدر کی طرف سے یہ تبصرہ عالمی سطح پر تبدیل ہوتی ہوئی جیو پولیٹکل صورتحال کے تناظر میں تھا۔ اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا تبدیل ہو رہی ہے اور دنیا کے ممالک اپنے اتحادوں پر دوبارہ غور کر رہے ہیں، ''اور سچی بات تو یہ ہے کہ ۔۔۔ میں اس پر یقین رکھتا ہوں۔۔۔ کہ دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ یہ مذاق نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے دشمن بھی ان حالات سے نمٹنے کے لیے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ ہم ان سے کیسے نمٹتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔‘‘

پاکستان کی طرف سے ردعمل

پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے امریکی سفیر کو طلب کیے جانے کے علاوہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف کے اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کی طرف سے بھی امریکی صدر کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام دنیا کے محفوظ ترین پروگراموں میں سے ایک ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا، ''اس پر میرے دو سوالات ہیں: ایک، ہماری جوہری صلاحیت کے بارے میں امریکی صدر اس بلاجواز نتیجے پر کن معلومات پر کی بنیاد پر پہنچے، جبکہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے کے باعث میں جانتا ہوں کہ ہمارا جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دنیا کے محفوظ ترین نظاموں میں سے ایک ہے۔ دو، امریکہ جو کہ دنیابھر میں جنگوں میں ملوث رہا ہے، کے برعکس پاکستان نے خاص طور پر جوہری صلاحیت کے حصول کے بعد کب جارحیت کا مظاہرہ کیا؟‘‘

عمران خان نے اپنی ٹوئیٹ میں امریکی صدر کے اس بیان کوپاکستان کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی بھی قرار دیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور تین بار پاکستان کے وزیر اعظم کے رہنے والے نواز شریف نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا، ''پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے جو بین الاقوامی قانون اور طریقہ کار کا احترام کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘

نواز شریف نے اپنی اس ٹوئیٹ میں مزید لکھا، ''ہمارا جوہری پروگرام کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ تمام خودمختار ریاستوں کی طرح پاکستان کو بھی اپنی خودمختاری، اپنی خود مختار ریاستی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔‘‘

پاکستانی وزير خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ خصوصی گفتگو