1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغان اثاثوں کو غیرمنجمد کرنے کی مغرب سے متعدد ملکوں کی اپیل

8 مارچ 2023

افغانستان کے سات پڑوسی ملکوں نے جنگ زدہ ملک میں دیرپا امن کے حصول پر تبادلہ خیال کے لیے ایک کلب قائم کیا ہے۔ منگل کے روز کلب کی افتتاحی میٹنگ میں انہوں نے مغرب سے افغانستان کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کی اپیل کی۔

https://p.dw.com/p/4ONdK
Usbekistan Taschken | Treffen der Außenminister
تصویر: UZBEK FOREIGN MINISTRY/REUTERS

ازبکستان کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ روس، چین، ایران، پاکستان، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے خصوصی نمائندوں نے منگل کے روز تاشقند میں ایک میٹنگ کی، جس میں انہوں نے افغانستان کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے مستقل میٹنگیں کرنے کا منصوبہ بنایا۔

ازبکستان کے خصوصی نمائندے عصمتیلا ارجاشیف نے بتایا کہ اس گروپ نے مغربی ملکوں سے اپیل کی کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں پر عائد پابندیاں جلد از جلد ختم کردی جائیں۔

افغانستان کے پڑوسی ملکوں کے مذکورہ کلب کے افتتاحی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارجاشیف نے کہا، "ان ملکوں نے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کی رقم اسے واپس لوٹا دی جائے تاکہ اس کا استعمال بنیادی طورپر اسکول ٹیچروں اور ڈاکٹروں کی تنخواہوں کے لیے کیا جا سکے۔ اسی کے ساتھ اس سے ان لوگوں کی بھی کچھ مدد ہو جائے گی جو اس وقت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔"

لاکھوں افغان 'منجمد جہنم' میں جی رہے ہیں، اقوام متحدہ

انہوں نے کہا کہ "ساتوں ملکوں کے نمائندوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان کی تقریباً ڈھائی کروڑ آبادی بھوک کا شکار ہے اور خوراک سے محروم ہے۔"

امریکہ نے سات ارب ڈالرمنجمد کررکھے ہیں

اگست 2021 میں طالبان کے ذریعہ افغان حکومت کو معزول کردیے جانے کے بعد امریکہ نے افغان سینٹرل بینک کے تقریباً سات ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے تھے۔ اس کے علاوہ یورپی بینکوں میں موجود مزید دو ارب ڈالر کے اثاثے بھی منجمد ہیں۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس میں سے کچھ رقم عام افغان شہریوں کے فائدے کے لیے کام کرنے والے ایک فاونڈیشن کو دی جائے گی۔

نائن الیون کے متاثرین کے لواحقین افغان بینک کی رقوم کے حقدار نہیں، امریکی جج

اقوام متحدہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ افغانستان میں تقریباً 60لاکھ افراد قحط سالی کے خطرے سے دوچار ہیں اور دو تہائی آبادی کو شدید بھوک کا سامنا ہے اور انہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اسلامی امارت افغانستان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کلب کے قیام اور تاشقند میں اس کی میٹنگ کا خیر مقدم کیا
اسلامی امارت افغانستان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کلب کے قیام اور تاشقند میں اس کی میٹنگ کا خیر مقدم کیاتصویر: Bilal Guler/AA/picture alliance

طالبان نے تاشقند میٹنگ کا خیرمقدم کیا

افغانستان کی خبر رساں ایجنسی خامہ پریس کے مطابق تاشقند کی میٹنگ میں طالبان  کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ حالانکہ کئی پڑوسی ملکوں نے اپنے یہاں کے افغان سفارت خانوں کو طالبان سفارت کاروں کے حوالے کر دیے ہیں لیکن انہیں علاقائی سطح کی ایسی میٹنگوں میں ابھی مدعو نہیں کیا جاتا ہے۔

’طالبان بنیادی طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں‘

دریں اثنا طلوع نیوز کے مطابق اسلامی امارت افغانستان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کلب کے قیام اور تاشقند میں اس کی میٹنگ کا خیر مقدم کیا۔

انہوں نے کہا، "افغانستان کے ساتھ انسانی امور کے شعبے میں تعاون اور مدد اور حکومت کو مضبوط کرنے نیز ملک کے دیگر شعبوں کے لیے سود مند اس طرح کی تمام میٹنگوں کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔"

افغانستان کے پڑوسی ممالک طالبان پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں، خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندیوں کو ختم کریں اور ایک ایسی شمولیتی حکومت تشکیل دیں جس میں ہر ایک کی نمائندگی موجود ہو۔

طالبان کے اقتدار میں ایک نوجوان خاتون کی زندگی

 ج ا/ ص ز (روئٹرز، ایجنسیاں)